قومی کردار
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
مدنی کے دورۂ حدیث میں شریک تھے ۔ شرکاءِ درس میں سے کسی طالب علم کو شرارت سوجھی۔ اس نے مولانا کے پاس ایک رقعہ بھیجا اور اس کے ذریعہ تحریری طور پر یہ سوال کیا کہ آپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ حرامی ہیں۔ مولانا مدنی نے رقعہ لے کر رکھ لیا اور پہلی نشست میں کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری نشست میں جب طلبہ جمع ہوئے تو آپ نے فرمایا” کسی دوست نے مجھ کورقعہ لکھا ہے کہ تو اپنے باپ سے نہیں ہے۔“ یہ سنتے ہی تمام مجلس میں ہیجان برپا ہو گیا۔ طلبہ غیظ وغضب سے بھر گئے کہ کس گستاخ نے یہ حرکت کی ہے۔ مولانا مدنی نے فرمایا” خبردار کسی کو غصہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ میرا حق ہے کہ میں سوال کرنے والے کی تسلی کروں۔“ پھر سنجیدگی کے ساتھ فرمایا۔ ”میں ضلع فیض آباد قصبہ ٹانڈہ کا رہنے والا ہوں۔ اس وقت بھی میرے والدین کے نکاح کے گواہ زندہ ہیں ۔ خط بھیج کر سمجھ لیا جائے“۔ یہ فرضی داستانیں مشہور ہے کہ قبل از اسلام کے عرب شاعر مہلہل تغلبی کے یہاں جب اس کی لڑکی لیلہ پیدا ہوئی تو اس نے اس کو زندہ درگور کرنے کا حکم دے دیا۔ مگر بچی کی ماں نے اس کو چھپا دیا۔ رات کو مہلہل نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اس کو بتا رہا ہے کہ اس کی لڑکی ایک قابل لڑکا جنے گی ۔ صبح ہوئی تو اس نے لڑکی کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ اس کو بتایا گیا کہ وہ اس کے حکم کے مطابق زندہ دفن کردی گئی ہے۔ مہلہل نے نہ مانا۔ اس نے مزید اصرار شروع کیا۔ آخر کار لڑکی اس کے سامنے پیش کی گئی۔ اس نے حکم دیا کہ اس کو عمدہ غذائیں کھلائی جائیں۔ اس لڑکی کی شادی کلثوم سے ہوئی۔ اب لڑکی اکثر خواب دیکھنے لگی کہ کوئی شخص آتا ہے اور اس کے ہونے والے بچہ کے بارے میں عجیب عجیب باتیں بتاتا ہے۔ بالآخر اس کے یہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader