Urdu book · سفر حیات

موت کے بعد

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا کہ وہ موت کے بعد والے حالات کو سوچیں۔ اس بے شعوری کا سبب یہ تھا کہ موت کے بعد والے حالات کے متعلق سوچنے کے لیے ضرورت تھی کہ وہ اپنی پروگرامنگ سے اوپر اٹھ کر سوچ سکیں۔ مگر شعوری ناپختگی کی بنا پر وہ ایسا نہ کر سکے۔ اس لیے آخر وقت تک وہ موت کی حقیقت سے بے خبر رہے۔ قرآن میں پیغمبر کے مشن کو اندازار کا مشن بتایا گیا ہے، یعنی لوگوں کی بے خبری کو توڑنا اور انھیں حقیقت حال سے باخبر کرنا۔ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں دیکھیے تو اندازار سے مراد یہی معاملہ ہے۔ انسان کے جینیٹک کوڈ میں چونکہ موت (death) کا اندراج نہیں۔ موت ہر انسان پر براہِ راست خدائی فیصلے کے تحت آتی ہے۔ اس لیے کوئی آدمی اس معاملے کو اُسی وقت سمجھ سکتا ہے، جب کہ وہ برتر سوچ کی صلاحیت کا ثبوت دے۔ پیغمبر کا مشن یہی ہے کہ ہر عورت اور مرد کے اندر وہ اِس برتر سوچ کی صلاحیت پیدا کرے۔ تاکہ ہر انسان موت سے پہلے موت کی حقیقت کو جان لے۔ وہ موت سے پہلے وہ ضروری تیاری کرے، جو اِس کو موت کے بعد کی زندگی میں کامیاب بنانے والی ہو۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ لوگ بار بار موت کے واقعات کو دیکھتے ہیں، لیکن موت کے معاملے پر وہ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کرتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت انھیں صرف خاتمۂ حیات کے ہم معنی نظر آتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس سے بے خبر رہتے ہیں کہ موت ایک نئے زیادہ بامعنی دَور حیات کا آغاز ہے۔ اگر وہ اس حقیقت کو جان لیں تو ان کی زندگی کا پورا نقشہ بدل جائے ۔ ان کی تمام سرگرمیوں کا مرکز و محور یہ بن جائے کہ وہ اپنی موت کے بعد کی زندگی کو زیادہ کامیاب بنا سکیں۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو موت زندگی کی مثبت سرگرمیوں کے لیے سب سے زیادہ طاقت ور محرک (incentive) بن جائے گی۔ موت کی یاد آدمی کو بے عمل (inactive) نہیں بناتی، موت کی یاد آدمی کو زیادہ سرگرم (active) بنا دیتی ہے۔ موت آدمی کے اندر یہ سوچ پیدا کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عمل کرو، کیوں کہ موت کے بعد عمل کا موقع باقی نہیں رہے گا۔ موت زندگی کا خاتمہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page