موت سے بے خبری کیوں
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ صرف وقتی لمحہ (moment) کو لے کر۔ یہ ایک عام بات ہے کہ لوگ دوسروں کو مرتا ہوا دیکھتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں سوچ پاتے کہ مجھے خود بھی مرنا ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ آخر وقت تک موت کو بھولے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اچانک اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ اس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں ایک مثال درج کی جاتی ہے۔ روسی کرنچیا (Russy Karanjia) انڈیا کے ایک مشہور صحافی تھے۔ وہ پارسی فیملی میں پیدا ہوئے۔ وہ سنسنی خیز صحافت (sensational journalism) کے امام تھے۔ ان کو فرینک مورس، شیام لال اور خشونت سنگھ کے درجے کا صحافی سمجھا جاتا تھا۔ انھوں نے دوسری عالمی جنگ میں وار کرسپانڈنٹ (war correspondent) کا کام کیا تھا۔ انھوں نے 1941 میں اپنا ہفت روزہ انگریزی اخبار بلٹز (Blitz) جاری کیا۔ اُن کے اخبار پر یہ ماٹو (motto) لکھا رہتا تھا: Free, Frank, and Fearless روسی کرنچیا کے تعلقات بڑے بڑے لوگوں سے تھے۔ مثلاً جواہر لعل نہرو، مارشل ٹٹو، صدر جمال عبد الناصر اور ایران کے رضا شاہ پہلوی، وغیرہ۔ اُن پر دو بار ہارٹ اٹیک ہوا۔ یکم فروری 2008 کو ان کی موت بمبئی کے ایک اسپتال میں ہوئی ۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 92 سال تھی ۔ ٹائمز آف انڈیا (2 فروری (2008) کی رپورٹ کے مطابق، اپنی موت سے پہلے انھوں نے جس واحد احساس کا ذکر کیا، وہ یہ تھا: The only thing he complained about was that, the nurses skirts were not short enough. روسی کرنچیا اُس وقت بستر مرگ پر تھے۔ اُس وقت وہ موت کے دروازے پر پہنچ چکے تھے۔ لیکن اُس وقت بھی اُن کے دماغ میں جو چیز چھائی ہوئی تھی، وہ یہ کہ اسپتال کی نرسوں کا اسکرٹ زیادہ چھوٹا نہ تھا جس سے اُن کے جسم کے زیادہ حصے دکھائی دیں۔ حالاں کہ اُس وقت بطور حقیقت یہ چاہیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader