موت کے بعد
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسی وقفہ انتقال (transferring period) کا نام موت ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے موت ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے (transportation) کا معاملہ ہے، نہ کہ زندگی کے خاتمے کا معاملہ۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ زندگی میں کامیابی کے لیے ہر عورت اور مرد کو اپنے اندر ایک خصوصی صلاحیت پیدا کرنا ہے، یہ ہے اپنی پروگر یمنگ سوچ۔ یہ گویا کہ خود اپنے خلاف سوچنے کا معاملہ ہے۔ جولوگ اس انقلابی طرزِ فکر میں کامیاب ہوں، وہی اس معاملے کو سمجھیں گے، وہی ایسا کرسکیں گے کہ اپنی پروگر یمنگ کے خلاف سوچ کر موت کے معاملے کو جانیں اور قبل از موت مرحلۂ حیات میں، بعد از موت مرحلۂ حیات کی تیاری کریں۔ فرانس کے صدر نکولس سارکوزی (Nicholas Sarkozy) جنوری 2008 میں انڈیا آئے۔ 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی تقریب میں وہ خصوصی مہمان کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اس کے بعد اپنے دورۂ ہند کے آخری مرحلے میں وہ دہلی سے آگرہ گئے، تاکہ وہاں مشہور تاریخی عمارت تاج محل کو دیکھ سکیں۔ ان کے سفر آگرہ کی جورپورٹ اخبار میں آئی ہے، اس میں ایک سبق آموز جزء شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر فرانس جب تاج محل کو دیکھ چکے تو ان کے سامنے حسب معمول گیسٹ بک (Guest Book) لائی گئی تا کہ وہ اس پر اپنا تاثر درج کرسکیں۔ صدر فرانس نے اختصار کے ساتھ اس میں ایک لفظ لکھا۔ یہ فرانسیسی زبان میں اُروواغ (Uruvor) تھا۔ اس فرانسیسی لفظ کا مطلب ہے : جلدی پھر ملیں گے (See you soon, again)۔ میں نے یہ رپورٹ پڑھی تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک شخص کے ذاتی احساس کی بات نہیں۔ یہ لفظ پوری انسانیت کی نمائندگی کر رہا ہے۔ تاج محل کو اگر جنت کا نمائندہ سمجھا جائے تو یہ جملہ پوری انسانیت کے احساس کو بتا رہا ہے۔ اس دنیا میں پیدا ہونے والے تمام انسان اپنے داخلی احساس کے تحت اپنے دماغ میں ایک جنتی دنیا کا خواب لئے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی کی یہ کوشش ہوتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader