موت کے بعد
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ وہ خوابوں کی اس دنیا کی تعمیر کر سکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، انسان کو پیدا کرنے کے بعد خدا نے اس کو جنت میں رکھا۔ اس وقت یہ جنت اس کو صرف عارضی مشاہدے کے لیے دی گئی تھی۔ اس عارضی مشاہدے کے بعد انسان کو موجودہ دنیا میں بسا دیا گیا اور یہ اصول مقرر کیا گیا کہ ہر انسان کی زندگی کا ریکارڈ دیکھا جائے گا اور آخر میں انتخابی بنیاد (selective basis) پر اس کے جنت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس خدائی منصوبے کے تحت، انسان موجودہ دنیا میں آباد کیا گیا ہے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ فطرت کی پروگِرمنگ کے تحت، انسان ابدی احساس میں جی رہا ہے، اس کی پروگِرمنگ کے اندر موت کا تصور شامل نہیں۔ لیکن آزمائشی پیریڈ کے اعتبار سے اس کو موت کا تجربہ کرنا پڑتا ہے جس کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے شعور کو حرکت میں لا کر اپنے اندر ایک خصوصی صلاحیت پیدا کرے ۔ یہ صلاحیت ایئٹی پروگِرمنگ سوچ کی صلاحیت ہے۔ ہر ایک کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی پروگِرمنگ سے باہر آ کر اپنے معاملے کو جانے۔ وہ پروگِرمنگ میں شامل نہ ہونے کے باوجود موت کے معاملے کو دریافت کرے ۔ اس دریافت کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ہر آدمی اپنی زندگی کی صحیح منصوبہ بندی کرے اور ابدی کامیابی کا مستحق ٹھہرے۔ موجودہ پروگِرمنگ کے زیرِ اثر آدمی یہ کر رہا ہے کہ وہ اسی موجودہ دنیا میں اپنے لئے جنت کی تعمیر میں لگا ہوا ہے۔ یہ گویا کہ سفر کو منزل سمجھ لینا ہے، اور ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی جو بھی تعمیر کرے گا اچانک موت اْس کا خاتمہ کر دے گی۔ آدمی سب کچھ موجودہ دنیا میں چھوڑ کر اگلی دنیا کی طرف بالکل خالی ہاتھ چلا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا ہر انسان کے لیے ایک سفر کا معاملہ ہے۔ آپ ٹرین سے سفر کریں یا ہوائی جہاز سے، آپ اپنے کو مسافر سمجھتے ہیں۔ اس لیے آپ سکون کے ساتھ اپنا سفر طئے کرتے ہیں ۔ اگر آپ سفر کو منزل سمجھ لیں اور سفر کے دوران وہ تمام سہولتیں حاصل کرنا چاہیں جو صرف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader