موت کے بعد
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
حالت قیام میں حاصل ہوتی ہیں، تو آپ کا سفر سخت تکلیف کا سفر بن جائے گا، خواہ آپ ٹرین یا ہوائی جہاز کے فرسٹ کلاس میں سفر کر رہے ہوں۔ یہی اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کا معاملہ ہے۔ جو عورت اور مرد اس حقیقت کو سمجھ لیں، وہ آخر کار کامیاب زندگی کے مستحق قرار پائیں گے۔ اور جو لوگ اس حقیقت کو نہ سمجھیں وہ صرف یہ کریں گے کہ فطرت کی طرف سے ملا ہوا قیمتی موقع کھو دیں، جب کہ یہ موقع دوبارہ کسی کو ملنے والا نہیں۔ موت اس حقیقت کا اعلان ہے کہ موجودہ زندگی میں انسان کو جو مختلف چیزیں ملی ہوئی تھیں، وہ بطور استحقاق نہ تھیں، بلکہ وہ صرف پرچہ ہائے امتحان (test papers) کے طور پر تھیں۔ موت کا آنا امتحان کے وقت کا ختم ہو جانا تھا۔ مدت امتحان کے ختم ہوتے ہی وہ تمام چیزیں بھی انسان سے چھن گئیں جو اس کو بطور امتحان ملی تھیں۔ اس طرح موت ہر انسان کو یہ بتاتی ہے کہ موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں تم بالکل اکیلے ہو جاؤ گے۔ اُن تمام چیزوں میں سے کوئی بھی چیز تمھارا ساتھ نہ دے گی، جو موت سے پہلے کے مرحلہ حیات میں تم کو حاصل تھی ۔ یہ صورت حال بے حد سنگین ہے۔ یہ صورت حال آدمی کو متنبہ کر رہی ہے کہ تم موت کے بعد کے مرحلہ حیات کے لیے تیاری کرو۔ اگر تم ضروری تیاری کے بغیر موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں داخل ہو گئے، تو اچانک تم اپنے آپ کو انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں پاؤ گے۔ تم اچانک دیکھو گے کہ موجودہ زندگی میں جو کچھ تم کو حاصل تھا، وہ سب تمھارا ساتھ چھوڑ چکا ، اور اب نئے مرحلہ حیات میں جینے کے لیے جو کچھ درکار ہے، وہ سرے سے تم کو حاصل ہی نہیں۔ آخرت میں صرف اس شخص کو خدا کا دیدار حاصل ہوگا جس نے دنیا میں خدا کو دیکھنے کی نگاہ پیدا کی ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader