جنت اور انسان
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
میرا انٹرویو نہیں ہوا۔ چیئرمین نے کہا کہ آپ کا انٹرویو ہو چکا ہے۔ ہم نے آپ کا سلیکشن کر لیا ہے، اور اب آپ کل سے ہمارے یہاں جوائن کر لیجیے۔ اس کے بعد چیئرمین نے بتایا کہ ائیرپورٹ پر ہمارا جو آدمی آپ سے ملا تھا، وہ یہاں کا سینئر پروفیسر تھا۔ اور وہی آپ کا انٹرویو بھی تھا۔ چیئرمین نے کہا کہ آپ کے بھیجے ہوئے کاغذات کو دیکھنے کے بعد ہم نے جان لیا تھا کہ جہاں تک تعلیمی لیاقت کا تعلق ہے، آپ اس کے پوری طرح اہل ہیں۔ اب ہم کو یہ جاننا تھا کہ آپ ہمارے یونی ورسٹی کلچر کے معیار پر پورے اترتے ہیں یا نہیں۔ آپ کا مذکورہ انٹرویو یہی کام کر رہا تھا۔ وہ آپ کو یونی ورسٹی کے ہر شعبے میں لے گیا۔ اس نے یہاں کی تمام ایکٹیویٹیز (activities) سے آپ کو متعارف کرایا۔ اس نے اسٹوڈنٹس اور ٹیچرس دونوں کے ساتھ آپ کے سلوک کو دیکھا۔ اس دوران وہ آپ کی ہر بات کا دقت نظر کے ساتھ معائنہ کرتا رہا۔ انٹرویو کی رپورٹ آپ کے بارے میں پوری طرح مثبت ہے۔ چناں چہ آپ کے ریکارڈ کو دیکھنے کے بعد ہم نے آپ کا انتخاب کر لیا ہے۔ آپ کل سے یہاں اپنا کام شروع کر دیں۔ یہ واقعہ ایک حقیقی مثال کی صورت میں، جنت اور انسان کے معاملے کو بتاتا ہے۔ خدا نے ایک وسیع دنیا بنائی، جنت کی دنیا۔ یہ دنیا پورے معنوں میں ایک کامل دنیا تھی۔ یہاں ہر چیز اعلیٰ معیار کے مطابق تھی۔ خدا نے چاہا کہ اس کامل دنیا میں وہ ایسے لوگوں کو بسائے جو اپنے کردار کے اعتبار سے اُس کے لیے پوری طرح اہل ہوں، جو اس معیاری دنیا میں معیاری انسان کی حیثیت سے رہ سکیں۔ اب خدا نے اس دنیا کے تعارفی نمونے کے طور پر موجودہ زمینی سیارہ بنایا۔ یہاں وہ ساری چیزیں پائی جاتی ہیں جو جنتی دنیا کے اندر موجود ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ جنتی دنیا، معیاری دنیا (perfect world) ہے اور موجودہ زمینی دنیا، غیر معیاری دنیا (imperfect world)۔ جنتی دنیا کامل ہے اور موجودہ زمینی دنیا غیر کامل۔ جنتی دنیا ابدی ہے اور موجودہ زمینی دنیا غیر ابدی۔ جنتی دنیا ہر قسم کے خوف اور حُزن سے خالی ہے، جب کہ موجودہ دنیا کا حال یہ ہے کہ وہ خوف اور حزن سے بھری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader