جنت اور انسان
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئی ہے۔ جنتی دنیا انعام (reward) کی دنیا ہے اور موجودہ دنیا آزمائش (test) کی دنیا۔ اس منصوبے کے تحت، خدا نے انسان کو پیدا کر کے اس کو موجودہ زمینی دنیا میں بسایا۔ خدا نے انسان کو کامل آزادی دے دی۔ اُس نے انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ یہاں کسی پابندی کے بغیر رہے۔ اُس کو اختیار ہے کہ وہ اپنی آزادی کو چاہے تو غلط طور پر استعمال کرے اور چاہے تو درست طور پر استعمال کرے ۔ ہر انسان جو زمین پر پیدا ہوتا ہے، اُس کے ساتھ خدا کے دو غیر مرئی (invisible) فرشتے ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ وہ انسان کے ہر قول اور عمل کا مکمل ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ اسی ریکارڈ کی بنیاد پر اس کے لیے اگلی دنیا میں جنت یا جہنم کا فیصلہ ہوگا۔ جنتی دنیا میں انسان کامل آزادی کے ساتھ رہے گا، لیکن وہ اتنا زیادہ پختہ اور اتنا زیادہ باشعور ہوگا کہ وہ کسی بھی حال میں اپنی آزادی کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔ وہ پوری طرح آزاد ہوتے ہوئے بھی پوری طرح ڈسپلن میں رہے گا۔ یہی وہ انسان ہے جس کے سلیکشن کے لیے موجودہ زمینی سیارہ بنایا گیا۔ موجودہ دنیا میں بھی وہ سارے حالات پائے جاتے ہیں جو جنتی دنیا میں موجود ہوں گے ۔ اب یہ دیکھا جا رہا ہے کہ وہ کون انسان ہے جس نے ہر قسم کے حالات سے گزرتے ہوئے جنتی کیریکٹر کا ثبوت دیا۔ اُسی انسان کا انتخاب کر کے اس کو جنتی دنیا میں ابدی طور پر بسا دیا جائے گا۔ ہر انسان کے ساتھ خدا کے غیر مرئی فرشتے لگے ہوئے ہیں اور وہ ہر لمحہ اس کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ یہی انسان کا ٹسٹ ہے، اور اسی ٹسٹ کے نتیجے کی بنیاد پر ہر آدمی کے مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ وہ ٹسٹ یہ ہے کہ آدمی ہر موقع پر خدائی کی بڑائی کا اعتراف کرے، یعنی آدمی کے ضمیر نے جب اس کو ٹوکا تو اس نے ضمیر کی آواز کو مانا، یا اس کو نظر انداز کر دیا۔ جب اس کے سامنے دلیل کے ساتھ ایک سچائی آئی تو وہ اس کے آگے جھک گیا، یا اس نے اس کے خلاف سرکشی دکھائی۔ جب اپنی انا اور سچائی کا مقابلہ ہوا تو وہ اپنی انا کے پیچھے چلا، یا اُس نے سچائی کا اعتراف کیا۔ اسی طرح لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے وہ انصاف پر قائم رہا، یا اپنے انٹرسٹ کی خاطر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader