Urdu book · سفر حیات

سفر حیات

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

پرسنالٹی کی تشکیل کر رہا ہے۔ پھر جو فرد (individual) اپنے قول و عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ مطلوب معیار کے مطابق ہے، اس کو عارضی نرسری سے نکال کر جنت کی ابدی باغ میں نصب کر دیا جاتا ہے، تا کہ وہ وہاں جنت کے ماحول میں فروغ پائے اور ابدی طور پر ترقی کا سفر طے کرتا رہے۔ موت وہ دن ہے جب کہ کسی فرد کو سیارہ ارض سے ٹرانسفر کر کے ابدی جنت میں پہنچا دیا جائے۔ دو دنیا ئیں قرآن کی سورہ الذاریات میں تخلیق کا ایک اصول ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (49: 51) ۔ یعنی ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے، تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ فطرت کا یہ نظام ہے کہ یہاں تمام چیزیں جوڑے جوڑے کی صورت میں پیدا کی گئی ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا بھی دو دنیا (pair world) کی صورت میں بنائی گئی ہے۔ سیارہ ارض (planet earth) اس کا ایک جوڑا ہے۔ اس کا دوسرا جوڑا آخرت کی دنیا ہے، جہاں جنت (Paradise) واقع ہے۔ جنت موجودہ دنیا کا تکمیلی حصہ (complementary part) ہے۔ جنت کے بغیر موجودہ دنیا نا قابل فہم ہے، لیکن جنت کے ساتھ وہ پوری طرح قابل فہم بن جاتی ہے۔ جنت کی نرسری خالق نے ایک عظیم دنیا بنائی۔ یہ دنیا ہر لحاظ سے آئیڈیل اور پرفیکٹ تھی۔ اس دنیا کا نام جنت ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنت آدم کی تخلیق سے پہلے بنائی گئی (البقرۃ: 35)۔ اس کے بعد خالق نے چاہا کہ وہ اُن عورتوں اور مردوں کا انتخاب کرے جو اس جنتی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ اس مقصد کے لیے خالق نے سیارہ ارض بنایا۔ یہ سیارہ ارض گویا جنتی دنیا کی نرسری (nursery) ہے۔ نرسری اُس مقام کو کہا جاتا ہے جہاں پودے اگائے جائیں اور پھر منتخب پودوں کو وہاں سے نکال کر اُن کو باغ میں نصب کیا جائے: Nursery: A place where plants are reared for transplantation.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page