Urdu book · سفر حیات

دو دنیا ئیں

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمین اسی قسم کی ایک نرسری ہے۔ یہاں مسلسل طور پر انسان پیدا کیے جا رہے ہیں۔ زمین پر وہ تمام حالات رکھے گئے ہیں جو نرسری کی حیثیت سے اس کے تقاضے پورے کرنے والے ہیں۔ ہر عورت اور مرد اپنے عمل سے اپنے اندر مثبت شخصیت یا منفی شخصیت کی تعمیر کر رہے ہیں۔ موت وہ وقت ہے جب کہ ایک ”پودا“ اپنی مدت پوری کرنے پر نرسری سے اکھاڑ دیا جائے، پھر اگر وہ مطلوب شخصیت بنا ہے تو اس کو رد کر دیا جائے اور اگر اس نے اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کی ہے تو اس کو وہاں سے نکال کر جنت میں بسادیا جائے— موجودہ دنیا اس لیے ہے، تاکہ یہاں ایک فرد اپنے آپ کو اسپرچول شخصیت کی حیثیت سے تیار (develop) کرے اور پھر جنت میں وہ اسپرچول تہذیب کا ابدی حصہ بن جائے۔ جنت کی دنیا انسان کی اصل منزل ہے۔ موجودہ عارضی دنیا نرسری (nursery) کی مانند ہے۔ یہاں پیدا ہونے والے عورت اور مرد کی حیثیت گویا نرسری کے پودے کی ہے۔ اس محدود مدت میں جو ”پودے‘‘ صحت مندی کا ثبوت نہ دیں، ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا اور جو ”پودے‘‘ اپنی نشوونما کے دوران صحت مند ثابت ہوں، اُن کو باعزت طور پر موجودہ عارضی دنیا سے منتقل کر کے آخرت کی ابدی دنیا میں پہنچادیا جائے گا، یعنی جنت کی دنیا میں۔ اس حقیقت کو ایک اور آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَلَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ (67:2) یعنی اللہ، جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچنے کہ تم میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر بے شمار عورت اور مرد پیدا ہوتے ہیں۔ وہ محدود مدت تک زندگی گزار کر مر جاتے ہیں، یہ ساری بھیڑ خالق کا مطلوب نہیں۔ خالق کا مطلوب صرف وہ فرد ہے جو اس امتحانی دورِ حیات میں یہ ثابت کرے کہ وہ پورے معنوں میں احسن العمل (best in deeds) ہے۔ زمین کی حیثیت نرسری کی ہے، اس لیے یہاں ہر قسم کے پودے اگتے ہیں۔ لیکن جنت کی حیثیت مطلوب منزل کی ہے، اس لیے وہاں صرف وہی استثنائی افراد بسائے جائیں گے جن کو اُن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page