Urdu book · سفر حیات

دو دنیا ئیں

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ، واللہ اکبر۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 105) حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معراج کی رات میں میری ملاقات حضرت ابراہیم سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اے محمد، اپنی امت کو میرا سلام پہنچا دو۔ اور اُن کو بتاؤ کہ جنت کی مٹی بہت پاکیزہ مٹی ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے اور وہ ایک ہموار میدان ہے۔ اس کا پودا سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا إله إلا اللہ، واللہ اکبر ہے۔ 2- عن أبي أيوب الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة أسري به مرّ على إبراهيم، فقال من معك يا جبريل، قال: هذا محمد۔ فقال له إبراهيم: مُرْ أمتك فليكثروا من غراس الجنة، فإن تربتها طيبة وأرضها واسعة۔ قال: وما غراس الجنة، قال: لا حول ولا قوة إلا بالله۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 7966) حضرت ابوايوب انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات میں حضرت ابراہیم کے پاس سے گزرے۔ انھوں نے کہا کہ اے جبریل، یہ تمھارے ساتھ کون ہیں۔ جبريل نے کہا کہ یہ محمد ہیں۔ حضرت ابراہیم نے آپ سے کہا کہ اپنی امت کو بتاؤ کہ وہ جنت میں کثرت سے پودے لگائیں، کیوں کہ جنت کی مٹی بہت پاکیزہ ہے اور اس کی زمین بہت وسیع ہے۔ آپ نے پوچھا کہ جنت کا پودا کیا ہے؟ حضرت ابراہیم نے کہا کہ: لا حول ولا قوة إلا بالله۔ مذکورہ روایات میں جنت کے لیے دو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ قيعان اور ارضِ واسعه۔ دونوں کا مفہوم ایک ہے، یعنی وسیع اور ہموار زمین۔ یہ تمثیل کی زبان میں جنت کی اصل حقیقت کا بیان ہے۔ اس معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ نے یہ چاہا کہ وہ ایک اعلیٰ مخلوق پیدا کرے اور پھر اس مخلوق کو وہ اپنی اعلیٰ ترین نعمت سے نوازے۔ اس منصوبے کے تحت، اللہ نے ایک معیاری دنیا بنائی۔ یہ دنیا اپنی وسعت کے اعتبار سے، اپنے آپ میں ایک مکمل کائنات تھی ۔ اس میں ہر قسم کے اعلیٰ امکانات رکھے گئے تھے۔ اس میں نہ صرف ہر قسم کی نعمتیں تھیں، بلکہ اس میں اعلیٰ ترقی کے ابدی مواقع موجود تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page