Urdu book · سفر حیات

دو دنیا ئیں

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو مکمل آزادی عطا کی۔ جنت اسی انسان کے فطری یہی ٹيٹ (natural habitat) کے طور پر بنائی گئی ہے۔ اس جنت میں انسان کا داخلہ انتخاب (selection) کی بنیاد پر مقرر کیا گیا۔ موجودہ سیارہ ارض اس مقصد کے لیے سلیکشن گراؤنڈ یا نرسری کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کو پیدا کر کے اس کو مکمل آزادی دے دی گئی ہے۔ آزادی کے اس ماحول میں جو عورت یا مرد اپنے آپ کو جنت کی دنیا میں بسائے جانے کا مستحق ثابت کریں، اُن کو منتخب کر کے یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ جنت میں آباد ہو کر مزید ترقی کی منزلیں طے کریں۔ اس کے برعکس، جو افراد زمینی زندگی کے امتحان میں ناکام ہو جائیں، اُن کو رد کر کے کائناتی کوڑے خانے میں پھینک دیا جائے۔ مذکورہ حدیث رسول میں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ جنت کا معاملہ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت اللہ کے سچے بندوں کے رہنے کی بہترین جگہ ہے۔ وہ ایک عالی شان رہائش گاہ ہے، مگر اپنی ابتدائی صورت میں وہ ایک غیر آباد جگہ ہے۔ اس ابدی جنت کی آبادی کاری کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ موجودہ سیارہ ارض کو ایک نرسری یا سلیکشن گراؤنڈ کے طور پر بنایا۔ موجودہ زمین پر جو عورت اور مرد پیدا ہوتے ہیں، وہ گویا نرسری میں لگائے جانے والے پودے ہیں۔ ان پودوں میں جو پودا یہ ثابت کرے گا کہ وہ صحت مند پودا (healthy plant) ہے، اس کو دنیا کی نرسری سے نکال کر جنت کے زیادہ بہتر اور ابدی مقام پر نصب کر دیا جائے گا، تاکہ وہ وہاں کے بہتر ماحول میں پرورش پا کر مزید ترقی کرے اور ابدی طور پر جنت کے شاداب باغ کا حصہ بن جائے۔ اس حدیث میں جن کلمات (سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله ) کا ذکر ہے، وہ بہ اعتبار لفظ مراد نہیں ہیں، بلکہ وہ بہ اعتبار معنی مراد ہیں، یعنی ان الفاظ میں جس آڈیالوجی کا ذکر ہے، یہ الفاظ جس معرفت کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ جس طرز فکر (way of thinking) کو بتاتے ہیں، اُس کے مطابق، اپنی سوچ کو بنانا، اس کے مطابق، اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page