دو دنیا ئیں
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
چناں چہ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جنتی انسان ہمیشہ جوانی کی عمر (youth age) میں رہیں گے، جیسے کہ وہ صرف 30 سال کی عمر کے ہوں۔ وہ ہر اُس جسمانی کم زوری (physical weakness) سے مکمل طور پر پاک ہوں گے جو دنیا کی زندگی میں اُن کے جسم کا لازمی حصہ تھی۔ اِسی طرح جنت کے باشندے ہر قسم کی جسمانی کمی سے پاک ہوں گے۔ مثلاً وہ کبھی بیمار نہیں ہوں گے۔ اُن کو بول و براز کی حاجت نہ ہوگی۔ اہل جنت کو جو جسم ملے گا، وہ ایسا جسم ہوگا جو ابدی طور پر شباب کی حالت میں رہے گا۔ اس پر نیند اور تھکاوٹ اور بڑھاپا طاری نہیں ہوگا۔ جنت میں اہل جنت کو خطاب کر کے یہ اعلان کیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ صحت مند رہو گے، کبھی بیمار نہ ہوگے۔ اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی تم پر موت نہ آئے گی۔ اب تم ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی تم بوڑھے نہ ہوگے۔ اب تم ہمیشہ خوش حال رہو گے، کبھی تنگی میں مبتلا نہ ہوگے، وغیرہ۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مشکوٰة المصابیح : جلد 3 ، کتاب أحوال القيامة وبدء الخلق، باب صفة الجنة وأهلها) حقیقت یہ ہے کہ جنت اور انسان دونوں ایک دوسرے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ جنت مکمل طور پر انسان کے مطابق حال ہے اور انسان مکمل طور پر جنت کے مطابق حال۔ جنت انسان کا یہی ٹیٹ (habitat) ہے اور انسان جنت کا مطلوب باشندہ (citizen)۔ انسان کے بغیر جنت کا وجود ادھورا ہے اور جنت کے بغیر انسان کا وجود ادھورا۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے طالب اور مطلوب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنت کے بغیر انسان کی زندگی بے معنی ہے اور انسان کے بغیر جنت کے وجود کی کوئی معنویت نہیں۔ یہ طالب اور مطلوب دونوں آخرت میں اکھٹا کیے جائیں گے اور اس کے بعد ابدی طور پر ایک دور کمال شروع ہوگا، جس کی خوشیاں کبھی ختم نہ ہوں گی، اور نہ اس کی رونق پر کبھی زوال آئے گا۔ یہ جنت انسان کا انتظار کر رہی ہے، لیکن اس جنت میں داخلہ صرف اُس انسان کو ملے گا جو اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کرے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader