Urdu book · سفر حیات

دو دنیا ئیں

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

دو دنیائیں ایک سائنسی قیاس کے مطابق، کائنات میں ہماری دنیا جیسی دو دنیائیں ہیں۔ ایک پازیٹو ورلڈ اور دوسری نیگیٹو ورلڈ۔ یہی قانون فطرت (law of nature) کا تقاضا ہے۔ جس طرح پازیٹو پارٹیکل اور نیگیٹو پارٹیکل کے بغیر ایٹم (atom) کا وجود نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ایک دنیا کے وجود کے لیے دوسری دنیا کا وجود بھی ضروری ہے۔ یہ سائنسی قیاس ہر انسان کا ایک ذاتی تجربہ ہے۔ ہر انسان اپنے ذاتی تجربے کے تحت ایک دنیا پر یقین رکھتا ہے جو بظاہر اس کو دکھائی دیتی ہے، اور جس کے اندر وہ اپنی زندگی گزارتا ہے۔ یہ دنیا وہ ہے جہاں وہ روزانہ صبح اور شام کے مناظر دیکھتا ہے، جس کے اندر وہ اپنی تمام سرگرمیاں جاری کرتا ہے۔ جس کو وہ اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے، اور اپنے کان سے سنتا ہے، اور جہاں وہ روزانہ اپنے پاؤں سے چلتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہر انسان ایک اور دنیا کا تصور اپنے ذہن میں لیے ہوئے ہے۔ ایک ایسی دنیا جو موجودہ دنیا کے مقابلے میں معیاری دنیا (perfect world) ہوگی، جہاں اس کی تمام خواہشات (desires) پوری ہوں گی۔ جہاں اس کو کامل فل فلمینٹ (total fulfilment) ملے گا۔ ہر انسان پیدائشی طور پر پرفلکشنسٹ ہوتا ہے۔ اپنے داخلی مزاج کے مطابق وہ اس معیاری دنیا کو پانا چاہتا ہے، مگر کوئی بھی شخص اپنی اس تلاش کا جواب نہیں پا تا، اور اس پر موت کا وقت آجاتا ہے۔ اس طرح ہر انسان کے ذہن میں ایک دنیا وہ ہے جس کو عملاً وہ پائے ہوئے ہے، اور دوسری دنیا وہ ہے جس کو وہ پانا چاہتا ہے، لیکن اس کو پانے میں وہ کامیاب نہیں ہوتا ہے۔ انسان کا یہ ذہن ہر ایک کے لیے اس بات کا ایک داخلی ثبوت ہے کہ یہاں دو دنیائیں موجود ہیں۔ ایک دنیا وہ جس کو وہ حال میں پا رہا ہے، اور دوسری دنیا وہ جس کو وہ موت کے بعد مستقبل میں پائے گا۔ پہلی دنیا ہر ایک کا عملی تجربہ ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسری دنیا وہ ہے جو ہر ایک کے ذہن میں بسی ہوئی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page