انسان کی تخلیق
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی تخلیق انسان کے مقصد تخلیق کے بارے میں قرآن میں مختلف آیتیں آئی ہیں۔ اُن میں سے ایک آیت یہ ہے: أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ (23:115)۔ یعنی کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے۔ انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے بہترین صورت (غافر : 64) پر پیدا کیا ہے۔ انسان ساری کائنات میں ایک مکرم مخلوق (الاسراء: 70) کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے بہترین صلاحیتیں عطا کی ہیں (التین : 4)۔ انسان کو استثنائی طور پر عقل و بصیرت دی گئی (الانسان : 2) ہے جو کسی بھی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے، ایک انتہائی بامعنی مخلوق ہے۔ انسان کی تخلیق میں ایک انتہائی ذہین ڈیزائن (intelligent design) پائی جاتی ہے۔ اس تخلیق میں یہ واضح اشارہ موجود ہے کہ انسان سے اس کے خالق کو اس دنیا میں ایک مثبت کردار (positive role) مطلوب ہے مگر عجیب بات ہے کہ عام طور پر انسان اس کے برعکس منفی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ یہ بلاشبہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سوال ہے۔ اس سوال کا جواب ایک حدیثِ رسول کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے: اکثروا ذکر هادم اللذات الموت (سنن الترمذی، حدیث نمبر (2307)۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان وقتی لذتوں میں گم ہو کر اُس اعلیٰ رول کو ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے جو اس کے لیے اس کی صلاحیت کے اعتبار سے مقدر کیا گیا ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنے شعور کو بیدار کرے۔ وہ خالق کے اس اشارے کو سمجھے کہ اگر میں نے خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، اپنے آپ کو خدائی مشن سے لگایا جو کہ میری صلاحیتوں کا اصل استعمال ہے تو اس کے بعد میری زندگی کی تمام ضرورتوں کی اعلیٰ تکمیل خود خالق کی طرف سے کی جائے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader