Urdu book · سفر حیات

رفیقِ اعلیٰ کی طرف

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

رفیق اعلیٰ کی طرف قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قدیم شاہ مصر کی مومن بیوی آسیہ کے لیے جب بادشاہ نے موت کا حکم صادر کیا تو اس وقت ان کی زبان سے یہ دعا نکلی: رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ (66:11) یعنی اے میرے رب، تو میرے لیے جنت میں اپنے پاس ایک گھر بنادے۔ یہ عام مومن کے الفاظ میں کی ہوئی ایک دعا ہے۔ یہی دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے آخر وقت میں پیغمبرانہ انداز میں اس طرح نکلی: اللهم الرفيق الأعلى (اے اللہ، رفیق اعلیٰ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4463 یہ دونوں دعائیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہم معنی ہیں۔ پہلی دعا عام مومن کے الفاظ میں کی ہوئی دعا ہے، اور دوسری دعا پیغمبرانہ سطح پر ایک نبی کی زبان سے نکلی ہوئی دعا۔ یہ دونوں دعائیں دراصل موت کی نسبت سے مومنانہ جذبات کا اظہار ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن پر جب موت کا لمحہ آئے تو اس کا احساس مذکورہ قسم کی دعامین ڈھل جائے۔ اس وقت مومن کا احساس یہ ہونا چاہیے کہ جب اہل دنیا سے میرا ساتھ چھوٹے تو مجھے خداوند ذوالجلال کی قربت حاصل ہوجائے۔ مجھے انسانوں کی مجلس سے اٹھنا پڑے تو مجھے فرشتوں کی مجلس میں شامل ہونا نصیب ہوجائے۔ جب موت مجھے اپنے لوگوں سے منقطع کر دے تو میں اکیلا نہ ہوجاؤں، بلکہ مجھے اعلیٰ تر مجلس میں خدا کی معیت کی نعمت حاصل ہوجائے۔ میرا سفر موت میرے لیے رفاقت ادنیٰ سے رفاقت اعلیٰ کی طرف سفر بن جائے۔ مذکورہ دعا کی حیثیت محض دعائیہ الفاظ کی نہیں ہے۔ وہ سچے مومن کی داخلی تڑپ کا لفظی اظہار ہے۔ ایک سچے مومن کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ موجودہ مرحلہ حیات کے مقابلے میں اگلا مرحلہ حیات اس کے لیے زیادہ بہتر ثابت ہو۔ موجودہ دار الامتحان میں اس کو خدا کی جو نعمتیں عارضی طور پر ملی ہوئی ہیں، وہ نعمتیں اس کو موت کے بعد کی دنیا میں زیادہ اعلیٰ طور پر خدا کے ابدی انعامات کی صورت میں عطا ہوجائیں۔ موت میرے لئے ناقص دنیا (imperfect world) سے نکل کر، کامل دنیا (perfect world) میں داخلے کا ذریعہ بن جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page