Urdu book · سفر حیات

پہلی زندگی، دوسری زندگی

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

پہلی زندگی ، دوسری زندگی انسان جب پیدا ہو کر موجودہ دنیا میں آتا ہے تو یہ اس کی پہلی زندگی ہوتی ہے۔ یہاں اُس کی طلب کے بغیر اس کے لیے سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ یہاں وہ پاتا ہے کہ پیدا ہوتے ہی اس کو ایک پر محبت خاندان مل گیا۔ اُس کو ایک ایسی دنیا مل گئی جو انتہائی حد تک اس کے لیے ایک موافق دنیا تھی ۔ اس کو ایک مکمل قسم کا لائف سپورٹ سسٹم (life support system) حاصل ہو گیا جس کے بغیر اس کے لیے زندگی ممکن نہ ہوتی ۔ یہ ساری چیزیں اُس کو یک طرفہ طور پر حاصل ہوتی ہیں۔ خواہ وہ اُس کو شعوری طور پر محسوس کرے، یا وہ اس کو شعوری طور پر محسوس نہ کرے۔ اس طرح ایک محدود مدت گزارنے کے بعد آدمی مر جاتا ہے۔ موت کا یہ واقعہ اس کے لیے ایک نئے سفر کا معاملہ ہوتا ہے۔ موت کے بعد آدمی ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے، جہاں دوبارہ وہ اکیلا ہوتا ہے۔ اب بھی وہ پہلے کی طرح ایک زندہ اور حساس وجود ہوتا ہے، لیکن پچھلی دنیا میں ملی ہوئی تمام چیزیں اُس سے چھوٹ جاتی ہیں۔ اب وہ پھر اس کا محتاج ہوتا ہے کہ دوبارہ اس کو تمام چیزیں از سرِ نو حاصل ہو جائیں، تاکہ وہ عافیت اور سکون کی زندگی گزار سکے۔ انسان کو پہلی زندگی کا تجربہ اس لیے کرایا جاتا ہے کہ اُس کے دل سے یہ دعا نکلے ــــ اے میرے رب، تو نے جس طرح پہلی زندگی میں میری ضرورت کی تمام چیزیں کسی استحقاق کے بغیر مجھے دے دی تھیں، اُسی طرح دوسری زندگی میں بھی تو مجھے میری ضرورت کی تمام چیزیں مزید اضافے کے ساتھ دے دے۔ پہلی زندگی میں میں نے تیرے عطیات کا جو ابتدائی تجربہ کیا تھا، دوسری زندگی میں تو اُس کو انتہائی صورت میں میرے لیے مقدر کر دے۔ پہلی زندگی میں تو نے جو کچھ مجھے دیا، وہ بھی غیر مستحق ہونے کے باوجود مجھے دیا تھا، دوسری زندگی میں بھی تو غیر مستحق ہونے کے باوجود تمام چیزیں مجھ کو عطا کر دے۔ پہلی زندگی میرے لیے تیری نعمتوں کا آغاز تھا، دوسری زندگی میں تو میرے لیے ان نعمتوں کا اتمام فرما دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page