فرسٹ، سیکنڈ
Urdu book, p. 172
By Maulana Wahiduddin Khan
فرسٹ، سکنڈ رابرٹ ہومز (Robert Holmes Court) آسٹریلیا کا ایک تاجر تھا۔ اس نے 1962ء میں مغربی آسٹریلیا میں ایک ادنی مل سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا۔ وہ تیزی سے ترقی کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی ایک اقتصادی سلطنت (financial empire) بنا لی۔ اس کی دولت ایک بلین ڈالر سے زیادہ ($1.1 bilion) تک پہنچ گئی۔ 1987 سے اس کو زوال شروع ہوا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی آدھی دولت کھودی۔ ستمبر 1990 میں اس کو ہارٹ اٹیک ہوا۔ پرتھ (Perth) کے پاس اپنے ہارس فارم میں اس کا انتقال ہو گیا۔ بوقت وفات اس کی عمر 53 سال تھی۔ ٹائم (17 ستمبر 1990) نے اس کی موت کی خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک وقت وہ ملک کا فرسٹ دولت مند شخص سمجھا جاتا تھا۔ مگر جب وہ مرا تو وہ اپنے ملک کا سکنڈ دولت مند شخص تھا جس کی دولت گھٹ کر 650 ملین ڈالر ہو گئی تھی: Once the country’s wealthiest man, he died the second richest (after fellow entrepreneur Kerry Packer), with an estimated fortune of $650 million. اس دنیا میں ہر آدمی کا معاملہ ایسا ہی ہے۔ یہاں ہر آدمی موت سے پہلے ’فرسٹ‘ بنا رہتا ہے۔ مگر موت ہر آدمی کو ’سکنڈ‘ بنا دیتی ہے۔ موت سے پہلے آدمی سمجھتا ہے کہ یہاں صرف میں ہوں، میرے سوا یہاں کوئی دوسرا نہیں۔ مگر موت آدمی کو بتاتی ہے کہ یہاں حقیقی وجود صرف خدا کا ہے، کسی ’میں‘ کی یہاں کوئی حقیقی حیثیت نہیں۔ موت ہر آدمی کے لیے بے رحم معلم ہے۔ عقل مند وہ ہے جو اُس حقیقت کو خود جان لے جو بے رحم معلم کے ذریعہ سے بتائی جانے والی ہے۔ خود جاننے والا شخص اللہ تعالیٰ کے یہاں بینا قرار پائے گا۔ اور جو شخص اس بات کو بے رحم معلم کے ذریعہ جانے، وہ اندھا ہے۔ اس کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ اندھا بن کر ابد تک اندھیری وادیوں میں بھٹکتا رہے۔ اور کبھی ان سے نکلنے کا راستہ نہ پائے۔ کیسا عجیب ہو گا وہ لمحہ جب ایک مسٹر فرسٹ اپنے آپ کو مسٹر سکنڈ کے مقام پر کھڑا ہوا پائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader