Urdu book · سفر حیات

تکمیل آرزو

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

تکمیل آرزو مشہور آرٹسٹ فدا حسین (2011-1915ء) اگر چہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے مگر اپنی محنت اور فطری لیاقت کے ذریعہ انھوں نے مصوری کے فن میں غیر معمولی ترقی حاصل کی۔ ان کی شہرت سب سے زیادہ اس وقت بڑھی جب ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں ایک نمائش کے دوران ایک بیرونی کمپنی نے ان کی ایک تصویر پانچ لاکھ روپیہ میں خریدی۔ اس کے بعد وہ ہندوستان کے عظیم ترین مصور کہے جانے لگے۔ ٹائمز آف انڈیا (6 اکتوبر 1990) میں ان سے ملاقات کی ایک روداد شائع ہوئی ہے۔ مسٹر پال نے ان سے پوچھا کہ کیا کوئی چیز ہے جس سے آپ خوفزدہ ہوں۔ 75 سالہ فدا حسین نے جواب دیا کہ نہیں۔ مگر کبھی کبھی مجھے عجیب قسم کی مایوسی ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ عین اس وقت جب کہ مجھے پینٹنگ میں کچھ درک حاصل ہوا، جب میں اس کے رازوں کو جاننے لگا تو میرے لیے اس دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آگیا۔ ابھی بہت سی چیزیں ہیں جن کو مجھے پینٹ کرنا ہے۔ اب بھی میں خیالات سے بھرا ہوا ہوں: At times, there is a strange sadness though. That just when I have got a grip over painting, when I have begun to grasp its mystery, it is time to pack up. There is so much I can still paint. I am still so full. یہی اس دنیا میں ہر انسان کا معاملہ ہے۔ آدمی بے پناہ آرزوؤں اور حوصلوں کو لے کر دنیا میں آتا ہے۔ وہ رات دن محنت کرتا ہے مگر اس کی آرزوؤں کی تکمیل نہیں ہوتی کہ موت کا وقت آجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا، ہر ایک غیر تکمیل شدہ حوصلوں کا ایک مزار ہے۔ یہ اس بات کا ایک سبق ہے کہ موجودہ دنیا صرف جدوجہد کی جگہ ہے۔ وہ پانے کی جگہ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page