جس خوشی کی ہمیں تلاش ہے
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
چہرے سے خوشی رخصت ہو چکی تھی، وغیرہ۔ موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ الم ناک پہلو یہ ہے کہ یہ دنیا انسان کے لیے المیہ (tragedy) کے سوا اور کچھ نہیں۔ بڑے بڑے ادیبوں نے ہر زبان میں لاکھوں کی تعداد میں ناول لکھے ہیں۔ یہ ناول گویا انسانی جذبات کی ترجمانی کی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ کسی بھی زبان میں کوئی طربیہ (comedy) ناول کبھی زیادہ مقبول نہ ہوسکا۔ دنیا میں جتنے بھی مقبول ناول ہیں، وہ سب کے سب المیہ (tragedy) ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر انسان اس احساس میں جی رہا ہے کہ وہ جس خوشی کو پانا چاہتا تھا، وہ اس کو حاصل نہ ہوسکی۔ یہی وجہ ہے کہ المیہ ناول انسان کے دل کو چھوتے ہیں، طربیہ ناول انسان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتے۔ یہ انسانی زندگی کا بڑا عجیب پہلو ہے کہ ہر انسان کی عمر کا پہلا نصف حصہ خوشی کی تلاش میں گزرتا ہے، اور بقیہ نصف حصہ اس احساس میں کہ بظاہر خوشیوں کے سامان حاصل کرنے کے باوجود میں اپنے لیے خوشیوں کی مطلوب دنیا نہ بنا سکا۔ تاریخ کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کی موجودہ زندگی اس لیے نہیں ہے کہ وہ یہاں اپنے لیے خوشیوں کی ایک دنیا بنائے۔ موجودہ زندگی صرف اس لیے ہے کہ آدمی حسن عمل سے اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں خوشیوں کی مطلوب دنیا پا سکے۔ موت سے پہلے کا مرحلہ حیات، اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنانے کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ حیات حسب استحقاق جنت میں داخلے کا مرحلہ، یعنی خوشیوں کی اُس دنیا میں داخلے کا مرحلہ، جس کو ہر آدمی کی روح تلاش کر رہی ہے۔ انسان کی منزل صرف خدا ہے اس سے کمتر کوئی چیز انسان کی منزل نہیں بن سکتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader