Urdu book · سفر حیات

امتحان گاہ

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

امتحان گاہ ایک طالب علم جب امتحان ہال میں داخل ہوتا ہے تو وہاں وہ اپنے آپ کو ایک وسیع کمرہ میں پاتا ہے۔ اس کے لیے وہاں پہلے سے آرام دہ کرسی اور میز بچھی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے چاروں طرف گملے ہوتے ہیں جن میں خوب صورت پھول سجے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہاں خادم بھی ہوتے ہیں جو اس کے اشارہ پر فوراً اس کی ضرورت پوری کریں۔ ہال کی کھڑکیاں چاروں طرف سر سبز و شاداب پارک کا منظر دکجارہی ہوتی ہیں، وغیرہ۔ مگر طالب علم ان میں سے کسی چیز سے بھی لطف اندوز نہیں ہو پاتا۔ بظاہر خوشی اور لذت کے ماحول میں بھی وہ خوشی اور لذت سے محروم رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت طالب علم کے ذہن پر صرف ایک بات کا غلبہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ میں امتحان گاہ میں ہوں۔ یہاں میں کسی بھی چیز کا مالک نہیں۔ یہاں جو کچھ ہے وہ کسی اور کا ہے۔ مجھ کو یہاں صرف اس لیے داخلہ ملا ہے کہ میں امتحان کے پرچے میں دیے ہوئے سوالات کو حل کروں۔ مزید یہ کہ میرے پاس صرف محدود وقت ہے، اس محدود وقت کا واحد استعمال یہ ہے کہ میں اس کو امتحان میں لگاؤں۔ اس کے سوا اور دوسری ہر مشغولیت میرے لیے وقت کا ضیاع ہے نہ کہ وقت کا استعمال۔ ٹھیک یہی معاملہ انسان کا موجودہ دنیا کی نسبت سے ہے۔ یہ دنیا ایک وسیع امتحان گاہ ہے۔ اس دنیا میں جو آدمی بھی آتا ہے وہ امتحان دینے کے لیے آتا ہے، اس بات کا امتحان کہ کسی انسان نے خدا کا سچا اعتراف کیا یا نہیں، انسان نے دوسرے لوگوں کے معاملہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کیا یا وہ اس میں کوتاہ ثابت ہوا۔ دنیا کی یہ امتحانی نوعیت اگر آدمی کے اوپر پوری طرح واضح ہو تو یہاں اس کا حال وہی ہو جائے گا جو کسی امتحان ہال میں طالب علم کا ہوتا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے ناممکن ہو جائے گا کہ وہ بے فکری کے ساتھ زندگی گزارے۔ وہ خوشیوں اور لذتوں میں گم ہو جائے۔ ایسے آدمی کے لیے دنیا ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی جگہ ہوگی نہ کہ راحتیں سمیٹنے کی جگہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page