امتحان کے لیے
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
امتحان کے لیے امتحان ہال میں طالب علم کو بہت سی چیزیں ملی ہوتی ہیں۔ بلڈنگ، میز، کری، ملازم کاغذ اور بہت سی دوسری چیزیں ۔ وہ بلا روک ٹوک ان چیزوں کا استعمال کرتا ہے۔ وہ آزادانہ طور پر ان کے درمیان اپنی نشست پر بیٹھتا ہے۔ بلڈنگ اس کو سردی اور گرمی سے بچاتی ہے۔ میز اور کری اس کو آرام کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔ کاغذ اور دوسرے سامان اس کو موقع دیتے ہیں کہ وہ جس طرح چاہے ان کو استعمال کرے اور جو چاہے کاغذ کے صفحہ پر مرسم کرے۔ مگر یہ سب کچھ جو طالب علم کو ملتا ہے وہ امتحان کے طفیل میں ملتا ہے۔ وہ صرف اس وقت تک کے لیے اس کا ہے جب تک امتحان کی مدت پوری نہ ہوجائے۔ جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہوتی ہے اس سے وہ سب کچھ چھین لیا جاتا ہے جو اس کو اب تک بے روک ٹوک ملا ہوا تھا، جو دیکھنے والوں کو اس کا ذاتی اثاثہ دکھائی دے رہا تھا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ موجودہ دنیا میں انسان کا ہے۔ یہاں آدمی کو بظاہر بہت سی چیزیں ملی ہوئی ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہے کہ جس طرح چاہے یہاں رہے اور جس طرح چاہے اپنی ملی ہوئی چیزوں کو استعمال کرے۔ مگر یہاں جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ سب امتحان کے طفیل میں ہے۔ خدا موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان لے رہا ہے۔ اور اس امتحان کے تقاضے کے تحت وہ بہت سی ضروری چیزیں انسان کو دے دیتا ہے۔ مگر یہ آدمی کے پاس صرف اس وقت تک ہے جب تک امتحان کی مدت ختم نہ ہو جائے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اچانک اس سے سب کچھ چھن جائے گا۔ وہ آدمی جو آج ظاہر سب کچھ پائے ہوئے ہے وہ اس وقت بالکل بے کچھ ہو جائے گا۔ اس دن وہ اس مسافر کی طرح ہو با جس کو اچانک لقف ودق صحرا میں ڈال دیا جائے۔ وہ اس انسان کی طرح ہوگا جس کو لامناہی خلا میں بالکل بے سہارا چھوڑ دیا جائے۔ موجودہ حالت اور اگلی حالت کے درمیان صرف موت کی غیر مرئی دیوار حائل ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader