پہلے آپ
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلے آپ ڈاکٹرسوجات مو کوانڈونیشیا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسر تھے۔ وہ جکارتا یونیورسٹی میں ایک علمی موضوع پر لکچر دے رہے تھے۔ عین لکچر کے دوران ان پر دل کا دورہ پڑا۔ وہ اسٹیج ہی پر گر پڑے اور اسی وقت وفات پا گئے۔ وہ پہلے ایشیائی تھے جو اقوام متحدہ کی امن یونیورسٹی (ٹوکیو) کے پریزیڈنٹ مقرر ہوئے۔ انھوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں: Prof. Dr. Soedjatmoko, one of the leading intellectuals of Indonesia while delivering a lecture at a University campus, in Jogiakarta, had a heart attack, collapsed and expired. He was the first Asian to become the President of UN's Peace University in Tokyo. He has written a number of books. ڈاکٹر سوجات مو کو کا کیس موجودہ دنیا میں ہر آدمی کا کیس ہے۔ پریس اور میڈیا اور پلیٹ فارم کے ظہور نے ہر آدمی کو بولنے کے لامتناہی مواقع دے دیئے ہیں۔ ہر آدمی صبح وشام بولنے میں مصروف ہے۔ آج ہر آدمی دوسروں کو سنارہا ہے۔ حالاں کہ خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے ہر آدمی کی طرف آرہے ہیں تا کہ اس کو لے جا کر وہاں کھڑا کر دیں جہاں اس کو صرف سننا ہے، سنانے کا موقع آخری طور پر اس کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ علم لفظوں سے واقفیت کا نام نہیں ہے بلکہ معانی سے واقفیت کا نام ہے۔ اس دنیا میں سب سے بڑا کام بولنا نہیں ہے بلکہ سب سے بڑا کام چپ رہنا ہے۔ یہاں اصل اہمیت اظہارِ رائے کی نہیں ہے بلکہ اظہارِ رائے سے پہلے سوچنے کی ہے۔ بولنے والا حقیقۃ وہ ہے جو اپنے آپ سے بولے۔ بتانے والا ہے جو اپنے دماغ کو سوچنے میں لگائے۔ دوسروں کو نصیحت کرنے والا وہ ہے جو دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے آپ کو نصیحت کرے، جو دوسروں کو مخاطب کرنے سے پہلے اپنا مخاطب خود بن جائے۔۔ جو دوسروں پر بلڈوزر چلانے کا نعرہ لگانے سے پہلے خود اپنی ذات پر بلڈوزر چلا چکا ہو۔ دوسروں کو مخاطب کرنا سب سے آسان ہے اور اپنے آپ کو مخاطب کرنا سب سے مشکل۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader