Urdu book · سفر حیات

بے خوفی کی نفسیات

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

بےخوفی کی نفسیات آج کل مسلمانوں میں ہر جگہ اسلام کی دھوم ہے۔ مشرق سے مغرب تک ہر جگہ دین کے نام پر بےشمار سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر ان ہنگامہ خیز سرگرمیوں میں وہی چیز غائب ہے جو دین کی اصل ہے، یعنی اللہ کا خوف جس کو قرآن اور حدیث میں تقویٰ کہا گیا ہے۔ آج کل مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ اگر اُنھیں قیامت کی خبر دی جائے تو وہ ایسا جواب دیں گے، جیسے کہ انھیں قیامت کے آنے کا کوئی ڈر نہیں، اس لیے کہ ان کو ’’شفیع المذنبین‘‘ کا وسیلہ حاصل ہے۔ قیامت اگر آئی بھی تو وہ صرف دوسروں کے لیے ہوگی، نہ کہ مسلمانوں کے لیے۔ مسلمانوں کو قیامت سے ڈرائیے تو اُن میں سے کوئی شخص کہے گا کہ ابھی قیامت کہاں، ابھی تو مسیح نازل نہیں ہوئے۔ ابھی تو مہدی نہیں آئے۔ ابھی تو دجال ظاہر نہیں ہوا۔ کوئی کہے گا کہ حدیث میں آیا ہے: مَن مات فقد قامت قيامته (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر 1183)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انفرادی قیامت تو ہر روز آرہی ہے۔ اسی طرح ایک دن اجتماعی قیامت بھی آجائے گی، پھر اس کے بارے میں فکر مند ہونے کے کیا معنی۔ کوئی کہے گا کہ دنیا اور آخرت کی تمام سعادتیں مسلمانوں کے لیے لکھ دی گئی ہیں، پھر ایسی حالت میں قیامت سے ڈرنے کی کیا ضرورت، وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعثت أنا والساعة جميعًا (مسند احمد، حدیث نمبر 22947) یعنی میں اور قیامت دونوں ساتھ ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ اس کو سن کر اصحاب رسول کا یہ حال ہوا کہ اگر آندھی بھی آجاتی تو وہ ڈر جاتے کہ شاید قیامت آگئی۔ مگر آج کل مسلمانوں کی بےخوفی کا یہ حال ہے کہ اُن سے کچھ بھی کہیے، لیکن ان کے اندر ڈر کی نفسیات نہیں پیدا ہوگی، وہ بدستور بےخوفی کی زندگی گزارتے رہیں گے۔ یہ حالت صرف عام مسلمانوں کی نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں کی بھی یہی حالت ہے جن کی ظاہری وضع قطع کو دیکھ کر ان کو دین دار مسلمان ہونے کا لقب دیا جاتا ہے۔ یہ گراوٹ کا آخری درجہ ہے، اس کے بعد گراوٹ کا کوئی اور درجہ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page