زلزلہ ایک وارننگ
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
زلزلہ ایک وارننگ 6 اپریل 2009 کو اٹلی کے وسطی علاقہ (Aquila L) میں زلزلہ آیا۔ رپورٹ کے مطابق، اس زلزلے میں ایک سو سے زیادہ آدمی مر گئے اور تقریباً پچاس ہزار آدمی بے گھر ہو گئے۔ زلزلہ والے علاقے کے ایک شخص نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ ـــ بم دھماکے جیسی آواز سن کر میں اٹھ گیا۔ ہم بمشکل اُس سے بھاگ کر باہر آئے۔ ہر چیز ہل رہی تھی۔ فرنیچر گر رہا ہے تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی ایسی کوئی چیز اپنی زندگی میں دیکھی ہو: I woke up hearing what sounded like a bomb. We managed to escape with things falling all around us. Everything was shaking, furniture falling. I don't remember ever seeing anything like this in my life. (The Times of India, New Delhi, April 7, 2009) قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت اچانک (suddenly) آئے گی (الأعراف :187)۔ اسی طرح زلزلہ بھی اچانک آتا ہے۔ زلزلہ فطرت (nature) کا ایک انوکھا ظاہر ہ ہے۔ فطرت کے اندر ہونے والے تمام واقعات بظاہر اسباب و علل کے تحت پیش آتے ہیں۔ زلزلہ ایک ایسا واقعہ ہے جو دوسرے تمام واقعات فطرت کے برعکس بالکل اچانک آ جاتا ہے۔ اس اعتبار سے زلزلہ آنے والی قیامت کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔ زلزلے کا استثنائی طور پر قیامت سے مشابہ ہونا بے حد اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ (earthquake) قیامت کی پیشگی اطلاع ہے۔ موجودہ زلزلہ چھوٹا زلزلہ ہے، اور آئندہ آنے والی قیامت زیادہ بڑا زلزلہ۔ اس دنیا میں چھوٹا زلزلہ اس لیے آتا ہے، تا کہ انسان ہوش میں آجائے اور بڑے زلزلے کے لیے پیشگی طور پر تیاری کرے۔ چھوٹے زلزلے میں بظاہر کچھ لوگ بچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، لیکن جب قیامت کا بڑا زلزلہ آئے گا تو کسی بھی عورت یا مرد کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو اُس سے بچا سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader