دردناک انجام
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
دردناک انجام ہر آدمی اپنی ساری توانائی خرچ کر کے زیادہ سے زیادہ پیسہ کماتا ہے، صرف اس لیے تاکہ وہ جہنم کا مہنگا ٹکٹ خرید سکے— یہ جملہ اکثر نہایت درد کے ساتھ میری زبان سے نکل جاتا ہے۔ آج کل کے لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنا سارا وقت اور اپنی ساری طاقت پیسہ کمانے میں لگائے ہوئے ہیں۔ اُن کورات دن بس ایک ہی دُھن لگی رہتی ہے، وہ یہ کہ کس طرح وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمائیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن کی سورہ نمبر 102 میں مکاثر کہا گیا ہے، یعنی کماتے کماتے قبر میں پہنچ جانا اور پھر جہنم کا سامنا کرنا۔ آج کل یہ حال ہے کہ سیکولر لوگ اور نام نہاد مذہبی لوگ، دونوں ایک ہی چیز کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ اور وہ ہے ہر ممکن ذرائع سے زیادہ سے زیادہ دولت کمانا۔ پھر اس دولت کا استعمال بھی صرف ایک ہے اور وہ ہے اپنی مادی خوش حالی میں اضافہ کرنا۔ مکان اور سواری اور کپڑے جیسی چیزوں میں زیادہ سے زیادہ ترقی کرنا۔ اگر کوئی شخص بظاہر مذہبی ہے، تو وہ صرف رسمی معنوں میں مذہبی ہے۔ مقصد زندگی کے اعتبار سے ہر ایک کا نشانہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے مادی ترقی۔ ہر آدمی کی زندگی ایک تلخ انجام پر ختم ہورہی ہے اور وہ ہے تمام مادی ترقیوں کو چھوڑ کر اس دنیا سے چلا جانا۔ یہ بے حد سنگین صورت حال ہے۔ اس میں دنیا کے تقریباً تمام لوگ مبتلا ہیں۔ اپنے خیال کے مطابق، وہ ترقی کی طرف جارہے ہیں، مگر موت ہر ایک کو بتا رہی ہے کہ تمھارا سفر صرف تباہی کے گڑھے کی طرف تھا، نہ کہ ترقی کی منزل کی طرف۔ کیسا عجیب ہے انسان کا یہ انجام کہ وہ اپنے بہترین وقت اور اپنی بہترین توانائی کو خرچ کر کے لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْم (6: 102) کا مصداق بن رہا ہے، یعنی جنت کا خواب دیکھنے والا، آخرکار اپنے آپ کو جہنم کے گڑھے میں گرا ہوا پائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader