Urdu book · سفر حیات

موت کا المیہ

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

موت کا المیہ موت ہر عورت اور مرد پر لازماً آتی ہے۔ موت کا سب سے زیادہ المناک پہلو یہ ہے کہ موت کے بعد دوبارہ موجودہ دنیا میں واپسی ممکن نہیں۔ موت کے بعد انسان کو ابدی طور پر ایک نئی دنیا میں رہنا ہے۔ موت کے بعد صرف بھگتنا ہے، عمل کرنا نہیں ہے۔ انسان ایک بے حد حساس (sensitive) مخلوق ہے۔ انسان کسی سختی کو برداشت نہیں کر پاتا، خواہ وہ کتنی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ ہر عورت اور ہر مرد کو سب سے زیادہ یہ سوچنا چاہیے کہ موت کے بعد اگر اس کو سخت حالات میں رہنا پڑا تو وہ کیسے ان کو برداشت کرے گا۔ اگر انسان یہ سوچے تو اس کی زندگی میں ایک انقلاب پیدا ہو جائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو وہ کہیں گے : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34) ۔ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کیا۔ تکلیف (pain) کی زندگی انسان کے لیے سب سے زیادہ ناقابلِ برداشت زندگی ہے۔ اور تکلیف سے پاک زندگی انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ انسان اگر اس پہلو کو سوچے تو موت اس کا سب سے بڑا کنسرن بن جائے۔ وہ موت کے بارے میں اس سے زیادہ سوچے گا، جتنا وہ زندگی کے بارے میں سوچتا ہے۔ موت کا تصور آدمی کے لیے ماسٹر اسٹروک (master stroke) کی مانند ہے۔ ماسٹر اسٹروک کیرم بورڈ کی تمام گوٹوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیتا ہے۔ اسی طرح اگر آدمی کے اندر موت کا تصور زندہ ہو تو اس کے دماغ کے تمام گوشے ہل جائیں ۔ اس کا سوچنا اور اس کا چاہنا، یک سر بدل جائے۔ اس کی زندگی میں ایک ایسا انقلاب آئے گا جو اس کو ایک نیا انسان بنا دے گا۔ موت سے غفلت آدمی کو ایک بے خبر انسان بناتی ہے۔ اس کے برعکس ، موت کی یاد آدمی کو آخری حد تک ایک باخبر اور باہوش انسان بنا دیتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page