Urdu book · سفر حیات

موت کا پیغام

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

موت کا پیغام انڈیا کے سابق پریسیڈنٹ ڈاکٹر عبدالكلام 27 جولائی 2015 کو انتقال کرگئے ۔ بوقت وفات ان کی عمر 83 سال تھی۔ وہ نئی دہلی سے پرواز کرکے شیلا نگ گیے، تا کہ وہاں وہ ایک سائنسی موضوع پر لیکچر دے سکیں۔ وہاں وہ اپنا لیکچر دے رہے تھے کہ ان پر ہارٹ اٹیک ہوا۔ وہ اسٹیج پر گر پڑے ۔ ان کو فورا اسپتال لے جایا گیا۔ وہاں ڈاکٹر نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر کلام کا انتقال ہو چکا ہے۔ Former President Abdul Kalam died on July 27, while delivering a lecture at IIM Shillong. He was in Shillong to attend a course on Livable Planet Earth at Indian Institute of Management. The former President suddenly collapsed in between the lecture. He was rushed to Bethany Hospital in Shillong only to declered by doctors that he is no more. موت ایک ایسا واقعہ ہے جو ہر انسان کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ہر انسان پر یہ لمحہ آتا ہے کہ موت کا فرشتہ اچانک اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ اے انسان تم کو اس دنیا میں صرف ”83“ سال جینا تھا۔ یہ مدت پوری ہو چکی ۔ اب تم کو ایک اور دنیا میں زندگی گزارنا ہے، جہاں تم ہمیشہ رہو گے ۔ ”83“ سال پر تمہاری زندگی کا ایک دور ختم ہو چکا، اور اب تمہاری زندگی کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے جو کبھی ختم نہ ہو گا ۔ ہر انسان کو یہ معلوم ہے کہ موت سے پہلے کے دور حیات میں اس کو اپنی کامیابی کے لیے کیا کرنا ہے۔ مگر یہ بات کوئی شخص نہیں جانتا کہ موت کے بعد کے دور حیات کے لیے اس کو کیا تیاری کرنا چاہیے جو وہاں کی ابدی زندگی میں اس کے کام آئے۔ یہی انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی وہ مسئلہ ہے جس سے ہر انسان بے خبر ہے۔ وہ دنیا کی ناکامی سے بچنے کے لیے تو سب کچھ کرتا ہے، لیکن آخرت کی ناکامی سے بچنے کے لیے وہ کچھ نہیں کرتا۔ کبھی بے خبری کے ساتھ، اور کبھی باخبر ہونے کے باوجود۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page