Urdu book · سفر حیات

کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

’’قدرت کو تبدیلی بہت پسند ہے۔‘‘ سرکار کے کام کاج میں حصہ لینے کے لیے وہ کافی بوڑھا ہو چکا تھا۔ اُسے یہ فکر دامن گیر تھی کہ شاید رعایا اس بات کو بھی بھول جائے کہ وہ ابھی تک زندہ ہے۔ اُس کے ہم عصر ایک مورخ نے اُس کی نسبت تحریر کیا ہے: ’’اُس نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ ابھی تک حکمراں ہے ہر قسم کی چال چلی۔ وہ افسروں کو ڈسمس کر دیتا اور ان کی جگہ نئے افسر مقرر کر دیئے جاتے۔ کسی کی وہ تنخواہ کم کر دیتا تو کسی کی تنخواہ میں اضافہ کر دیتا۔ اُس نے اپنا وقت افسروں کو مقرر کرنے اور اُن کا بھٹہ بٹھانے میں صرف کیا تھا۔‘‘ لیکن یہ سب کچھ کافی نہ تھا۔ 11 واں لوئی ایک عظیم شکاری تھا۔ جانوروں سے وہ بہت انس کرتا تھا۔ اُس نے گھوڑے اور کتے منگانے کے لیے یورپ بھر میں اپنے نمائندے بھیجے۔ اور مارکیٹ کی قیمت سے بھی زیادہ دے کر اُنھیں خریدا۔ چنانچہ اٹلی، سویڈن اور جرمنی سے گھوڑے اور کتے آنے شروع ہو گئے۔ جب وہ اُس کے محل میں پہنچ جاتے، مگر اُس کی صحت کمزوری کے سبب اس امر کی اجازت نہ دیتی کہ وہ انھیں دیکھ بھی سکے، یا جو لوگ اُن کو خرید کر لائے ہیں اُن سے بات تک بھی کر سکے۔ لیکن اُسے علم تھا کہ سارے یورپ میں اُس کی اس خریداری پر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ وہ ابھی تک زندہ تھا۔ اپنی صحت بحال کرنے کا وہ اتنا آرزومند تھا کہ اُس نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ موت کا لفظ اُس کے سامنے بولا ہی نہ جائے۔ اُس کا ذاتی معالج اُس کے ایک نوکر کی مانند کام کرتا تھا۔ اور بادشاہ کا وہ پسندیدہ بن گیا تھا۔ اُسے 10,000 سنہری کراؤن ماہوار دیئے جانے لگے تھے ۔ اُس وقت پورے یورپ کے کسی میدان جنگ میں 40 برس کام کر کے بھی ایک فوجی افسر اتنی رقم کما نہ سکتا تھا۔ اگر کوئی شخص اُس کی زندگی میں ایک دن کا بھی اضافہ کر سکے تو وہ اپنا سارا خزانہ لٹانے کو تیار تھا۔ 23 جولائی 1483ء کو جب اُس کا 60 واں جنم دن نزدیک آنے والا تھا وہ اور بھی فکر مند ہو گیا۔ اُس وقت وہ اتنا کمزور ہو گیا تھا کہ وہ مشکل سے لقمہ اُٹھا کر اپنے منہ میں ڈال سکتا تھا۔ اُس کے دل میں ایک خیال آیا۔ اُس نے ہزاروں سنہری سکے جرمنی، روم اور نیپلز کے گرجا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page