Urdu book · سفر حیات

کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

گھروں اور مذہبی رہنماؤں میں تقسیم کرنا شروع کر دیئے ۔ اُس نے تین بحری جہاز دے کر اپنے بہترین کپتان ایک جزیرہ کو بھیجے تا کہ وہاں سے بڑے بڑے کچھوے لائے جائیں۔ اس کو بتایا گیا تھا کہ یہ بحری کچھوے زندگی بخش خواص کے مالک ہیں۔ اسے یاد تھا کہ فرانس کے بادشاہوں کو ان کی تاج پوشی کے وقت ایک خاص قسم کی کریم (cream) کا تلک لگایا جاتا ہے ۔ یہ ایک کہاوت ہے کہ یہ کریم 496ء میں قدیم زمانہ کے ایک بادشاہ کو ایک فاختہ نے مہیا کی تھی۔ اور وہ اس کی موت سے چند ہی دن پہلے ایک سنہری رتھ میں پہنچی تھی ۔ لوئی نے تمام مذہبی ذرائع کو جو ممکن تھے اس امید کے ساتھ اکٹھا کیا کہ وہ زیادہ عرصہ زندہ رہ سکے ۔ آخر کار نیپلز کی ایک گپھا سے ایک جوگی اس امید کے ساتھ اُس کے محل میں لایا گیا کہ اس کی پرارتھنا پھل ہوگی۔ لیکن وہ بے اثر ثابت ہوئی۔ تا ہم لوئی اُسے اپنے نزدیک رکھنے کا اتنا خواہشمند تھا کہ اُس نے اپنے وزیر خزانہ کو حکم دے دیا تھا کہ اُس جوگی کے لیے سنگترے خریدنے کے لئے خواہ سارا خزانہ کیوں نہ صرف کرنا پڑے ضرور خریدے جائیں۔ ان تمام کوششوں کے باوجود لوئی پر فالج کا حملہ ہوا، اور 30 اگست کو وہ اس دنیا سے چل پڑا ۔ اُس کے منہ سے آخری لفظ یہی نکلے: میں اتنا بیمار تو نہیں ہوں جتنا آپ لوگ خیال کرتے ہیں۔ فرانس کی عوام کو یہ بات بخوبی یاد ہے کہ کس طرح اپریل 1974 میں صدر جارج پوپیڈونے جب وہ کینسر کی وجہ سے مر رہے تھے اپنے آخری بیان میں کہا تھا: میں اتنا بیمار تو نہیں ہوں جتنا آپ لوگ خیال کرتے ہیں۔ اور چند روز بعد اس کی موت واقع ہو گئی ۔ آخر کار 11 ویں لوئی کو معلوم ہو گیا کہ کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا۔ (ماخوذ) ہمارا جسم ایک ایسی روح کا پنجرہ ہے جس کا اصل آشیانہ صرف آخرت میں بنایا گیا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page