اپنی نمازِ جنازہ
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
موت کا تجربہ ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آتی ہے: أكثروا ذكر هادم اللذات (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر (2992) یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ موت ہر شخص کے لیے ایک بھیانک تجربہ ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنی زندگی کی تعمیر کرتا ہے۔ ہر آدمی اپنی بساط کے مطابق، اپنے لئے ایک چھوٹا یا بڑا محل بناتا ہے۔ ہر آدمی اپنی تمام کوشش کر کے اپنی ایک دنیا تعمیر کرتا ہے، لیکن بہت جلد وہ وقت آتا ہے جب کہ موت اس کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ موت ہر انسان کے لیے اس کی بنائی ہوئی دنیا کی نفی (nullification) کے ہم معنی ہے۔ اگر آدمی کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ ہو تو موت کی یاد ہی اس کی اصلاح کے لیے کافی ہو جائے۔ اس کا دنیا پرستانہ ذہن ختم ہو جائے اور وہ کامل اعتبار سے، آخرت پسند انسان بن جائے۔ دنیا کی تمام خرابیوں کی جڑ صرف ایک ہے اور وہ ہے موت کو حذف کر کے سوچنا۔ اور تمام اچھائیوں کا سرچشمہ یہ ہے کہ آدمی اس احساس کے ساتھ جئے کہ وہ ایک دن مرنے والا ہے اور اپنی زندگی کا حساب دینے کے لیے رب العالمين کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ موت سے غفلت آدمی کو غیر سنجیدہ بناتی ہے اور موت کا یقین آدمی کو آخری حد تک سنجیدہ بنا دیتا ہے۔ موت کا تصور انسان سے سرکشی کا جذبہ چھین لیتا ہے۔ موت کا تصور آدمی کو یاد دلاتا ہے کہ وہ صرف ایک عاجز مخلوق ہے۔ موت آدمی کو انسان اصلی (man cut to size) بناتی ہے۔ موت آدمی کے اندر سے بڑائی کا جذبہ چھین لیتی ہے۔ موت کی یاد آدمی کو آخری حد تک متواضع (modest) بنا دیتی ہے۔ یہ صفات آدمی کے اندر ایک داخلی محرک پیدا کر دیتی ہیں جو بلاشبہ انسان کی اصلاح کا سب سے زیادہ طاقت ور ذریعہ ہے۔ موت کی یاد آدمی کو اپنی زندگی کے بارے میں آخری حد تک ذمہ دار بنا دیتی ہے۔ موت کی یاد بلاشبہ انسان کے لیے سب سے بڑی مصلح کی حیثیت رکھتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader