اپنی نمازِ جنازہ
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی نمازِ جنازہ دہلی میں ایک مسلمان کی موت ہوئی۔ نمازِ جنازہ پڑھانے کے بعد ان کو ایک مقامی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ میرے ایک ساتھی نے بتایا کہ وہ اس نماز میں شریک تھے۔ نماز شروع ہونے والی تھی تو ان کے پاس کھڑے ہوئے ایک مسلمان نے پوچھا فرض کی نیت کروں یا سنت کی نیت کروں۔ انھوں نے کہا کہ خود اپنی نمازِ جنازہ کی نیت کرو۔ اُس آدمی کو حیرانی ہوئی ۔ بعد کو انھوں نے اس آدمی سے کہا کہ کسی کے مرنے پر جنازہ کی نماز پڑھنا محض ایک رسم نہیں، وہ ایک سنگین حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ اس کی یاد دہانی کہ مرنے والے کی جس طرح موت ہوئی ہے، اُسی طرح میری موت بھی ہونے والی ہے۔ باجماعت نمازِ جنازہ دراصل اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچی نمازِ جنازہ اُسی انسان کی ہے جو دوسرے کی موت میں اپنی موت کو یاد کرے ۔ وہ سوچے کہ آج جو کچھ مرنے والے کے ساتھ پیش آیا ہے، وہی خود میرے ساتھ پیش آنے والا ہے۔ موت کو دیکھ کر جو آدمی اس طرح سوچے، وہ جب جنازہ کی نماز کے لئے کھڑا ہوگا تو اس کا احساس یہ ہوگا کہ میں خود اپنے جنازہ کی نماز پڑھ رہا ہوں۔ جو کچھ دوسرے کے ساتھ آج پیش آیا ہے، وہی میرے ساتھ کل پیش آنے والا ہے۔ موت کسی ایک انسان کا معاملہ نہیں، موت کا واقعہ ہر عورت اور ہر مرد کے ساتھ لازمی طور پر پیش آنے والا ہے۔ مزید یہ کہ موت کسی سے پوچھ کر نہیں آتی، موت اچانک آجاتی ہے۔ اور موت جب آجاتی ہے تو کوئی بھی انسان اس کو واپس کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے، ایک انسان کے لئے بھی اور دوسرے انسان کے لیے بھی ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہر لمحہ اپنی موت کو یاد کرے، جو شخص اتنا زیادہ غافل ہو کہ دوسرے کی موت کو دیکھ کر بھی اس کو اپنی موت یاد نہ آئے، وہ گویا کہ بے حس پتھر ہے۔ وہ بظاہر انسان ہے، لیکن وہ انسانی صفات سے اُسی طرح خالی ہے جس طرح پتھر کا کوئی مجسمہ انسانی صفات سے خالی ہوتا ہے۔ موت کو یاد کرنا حساس (sensitive) انسان کی صفت ہے، اور موت کو یاد نہ کرنا بے حس (insensitive) انسان کی صفت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader