موت کا ذکرِ کثیر
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
موت کا ذکر کثیر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکثر و اذکر ھادم اللذات ، يعني الموت ( ابن ماجه ، حدیث نمبر 4258) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، جو لذتوں کو ڈھانے والی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موت کی یاد آدمی کے اندر دنیا رخی سوچ کو منہدم کردیتی ہے اور اُس کے اندر آخرت رخی سوچ پیدا کردیتی ہے۔ اگر آدمی بار بار موت کو یاد کرے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دنیا پسند انسان کے بجائے آخرت پسند انسان بن جائے گا۔ اس حدیث میں لذت کا لفظ اُن تمام چیزوں کے لیے ہے جو آدمی کے لیے کسی چیز کو مرکز توجہ بناتی ہے۔ اس لحاظ سے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اس حقیقت کو بہت زیادہ یاد کرے کہ وہ اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہے گا بلکہ سو سال سے بھی کم مدت میں مر جائے گا تو اُس کا مرکز توجہ بدل جائے گا۔ وہ اُس دنیا کو زیادہ سے زیادہ اہم سمجھے گا جو موت کے بعد آنے والی ہے، نہ کہ اُس دنیا کو جس میں موت سے پہلے عارضی طور پر زندگی گزار رہا ہے۔ یہ طرز فکر آدمی کے اندر ایک انقلاب پیدا کردے گا۔ اُس کی سوچ بدل جائے گی، اُس کا سلوک بدل جائے گا، اُس کے لین دین کا طریقہ بدل جائے گا، اُس کی اخلاقی روش بدل جائے گی، اُس کے روز و شب بدل جائیں گے۔ یہی مطلب ہے لذتوں کو ڈھانے کا۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کی یاد آدمی کے اندازِ فکر کو پوری طرح بدل دیتی ہے۔ جس چیز کو آج کل ”یہیں اور ابھی“ (right here, right now) کہا جاتا ہے، وہ صرف اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ انسان موت سے غافل ہو۔ اگر اُس کو موت کی حقیقت کا زندہ شعور ہو جائے تو وہ کبھی اس قسم کا فارمولا نہ اپنائے۔ موت کے ھادم اللذات ہونے کا مطلب یہ ہے کہ موت آدمی کی زندگی کے رخ کو مکمل طور پر بدل دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader