ایک ریمائنڈر
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ریمائنڈر موت مرنے والے کے لیے موت ہے، اور زندہ رہنے والے کے لیے اپنی موت کا ریمائنڈر (reminder)۔ جب کوئی شخص مرتا ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک بولنے والا چپ ہو گیا، لیکن اُس کا چپ ہونا اپنے آپ میں ایک اعلان ہوتا ہے۔ یہ اعلان کہ ـــــ آنے والا وقت میرے اوپر آ چکا، اب یہی وقت تمھارے اوپر آنے والا ہے۔ تم آنے والے وقت کے لیے تیار ہو جاؤ۔ رواج ہے کہ جب کسی شخص کی عمر کا ایک سال پورا ہوتا ہے اور اس کی عمر کا اگلا سال شروع ہوتا ہے تو اُس وقت اس کی سال گرہ (birthday) منائی جاتی ہے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اُس کو موت کی یاد کا دن سمجھا جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کی عمر کا مسلسل کاؤنٹ ڈاؤن (count down) ہو رہا ہے۔ ہر سال گرہ صرف یہ بتاتی ہے کہ تمھاری مدتِ حیات کا ایک اور سال کم ہو گیا۔ موت اسی کاؤنٹ ڈاؤن کی تکمیل ہے۔ لوگ اپنے یومِ پیدائش کو happy birthday کے طور پر مناتے ہیں، لیکن حقیقتِ واقعہ کے اعتبار سے دیکھیے تو معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ہر نئی سال گرہ دراصل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ موت یا یوم الحساب کا وقت اور زیادہ قریب آ چکا، آخرت کی تیاری کا ایک اور سال کم ہو گیا۔ موت کا ایک پہلو یہ ہے کہ آدمی موجودہ دنیا سے چلا گیا۔ موت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آدمی اپنی تمناؤں کی تکمیل کے بغیر مر جائے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے تمناؤں کی تکمیل کی دنیا نہ تھی۔ تمناؤں کی تکمیل کی دنیا صرف اگلی دنیا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو اس اشارے کو سمجھے اور موجودہ دنیا کی زندگی کو تیاری کا مرحلہ سمجھ کر اپنے آپ کو اگلی دنیا کے قابل بنائے۔ زندگی عمل کا وقفہ ہے اور موت خدا کی عدالت میں پیشی کا وقت۔ یہ ہر انسان کے لیے بے حد سنگین معاملہ ہے۔ دانش مند وہ ہے جو اس معاملے کو سمجھے اور اس کو اپنا سب سے بڑا کنسرن (supreme concern) بنائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader