ایک خط
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک دن اپنی موت سے دوچار ہونا ہے۔ یہ یاددہانی کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ سوتے ہوئے انسان کو جگانے کے ہم معنی ہے۔ یہ غیر متحرک لوگوں کو حرکت میں لانے کا ذریعہ ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اے لوگو، اب وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ بھر پور طور پر استعمال کرو، اس سے پہلے کہ اپنے وقت کو استعمال کرنے کا موقع ہی ختم ہو جائے۔ قرآن کے مطابق ، موت ہر پیدا ہونے والے کے لیے مقدر ہے۔ موت بلا شبہ ہر انسان کے لیے سب سے بڑا حادثہ ہے۔ مگر خدا نے حیرت انگیز طور پر اس کو ہمارے لیے رحمت کا سبب بنا دیا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب موت کا تجربہ پیش آئے تو پسماندگان کو چاہیے کہ وہ صبر کا طریقہ اختیار کریں۔ صبر کرنے والوں کے لیے عظیم انعام کی بشارت ہے۔ اس طرح کے معاملہ میں صبر کرنا کیوں خدائی انعام کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ صبر در اصل خدا کے فیصلہ پر راضی ہونے کے ہم معنی ہے۔ بلا شبہ کسی بندہ کے لیے یہ سب سے بڑی سعادت ہے کہ خدا اُس کے لیے ایک نا پسندیدہ چیز کا فیصلہ کرے اور وہ اْس کو خدا کی طرف سے سمجھ کر اْس پر دل سے راضی ہو جائے۔ اِس قسم کی موت اپنے پسماندگان کے لیے اسی عظیم خدائی انعام کا ذریعہ ہے۔ یہ بھی خدا کی ایک عجیب رحمت ہے کہ جانے والا تو چلا گیا۔ اُس کو اپنے مقرر وقت پر جانا ہی تھا۔ مگر اس واقعہ میں خدا نے اپنی رحمت سے یہ ناقابل بیان حد تک قیمتی پہلورکھ دیا کہ پسماندگان اگر اْس کو خدائی فیصلہ سمجھ کر اُس پر راضی ہو جائیں تو خدا اْن کی اس رضا مندی کی اس طرح قدر دانی کرے گا کہ جو چیز اْنہوں نے کھوئی ہے وہ مزید اضافہ کے ساتھ انہیں واپس مل جائے۔ موت کا واقعہ بظاہر ایک حادثہ ہے مگر اس دنیا میں ہر مائنس کے ساتھ پلس موجود ہوتا ہے۔ اور بلا شبہ موت کا واقعہ اس عام قانون سے مستثنی نہیں۔ نئی دہلی 23 اگست 2003 دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader