ایک خط
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک خط برادر محترم السلام علیکم ورحمتہ اللہ کل شام کو ایک صاحب نے ٹیلی فون پر بتایا کہ آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ جنوبی کوریا سے ۱۱ اگست کو آتے ہوئے میں ممبئی کے راستہ سے واپس ہوسکتا تھا۔ اس طرح مجھے آپ کی والدہ محترمہ کی آخری رسوم میں شریک ہونے کی سعادت مل جاتی ۔ مگر شاید ایسا ہونا مقدر نہ تھا ۔ اسلام کی ایک عجیب تعلیم دعا ہے ۔ دعا کی مختلف صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ کسی کے ساتھ اگر عملی اعتبار سے کوتاہی ہو جائے تو انسان کو چاہئے کہ وہ اُس کے حق میں نیک دعائیں کرے ۔ میں دعا کے ساتھ آپ کے جذبات میں شریک ہوتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے ۔ اُن کے ساتھ ہمارے لیے بھی جنت میں داخلہ کی صورت پیدا فرمائے ۔ ماں بلاشبہ ہر مردو عورت کے لیے ایک عظیم نعمت ہے ۔ مگر غالباً ماں کی سب سے زیادہ انوکھی اور امتیازی صفت یہ ہے کہ وہ انسان کے لیے رحمتِ خداوندی کا ایک عملی تعارف ہے ۔ خدا تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحیم ہے ۔ عام حالات میں یہ ایک نظری عقیدہ ہے مگر ماں کی صورت میں خدا نے اپنی اس صفت کو پیشگی طور پر دکھا دیا ہے ۔ ماں کی شفقت اور محبت میں ہر بندہ خدا کے لیے اس امید کا سامان موجود ہے کہ اُس کا خدا اُس کے ساتھ یک طرفہ طور پر رحمت کا معاملہ فرمائے گا ، جیسا کہ ماں ہر حال میں اپنی اولاد کے ساتھ یک طرفہ طور پر رحمت کا معاملہ کرتی ہے ۔ ماں کی وفات عام طور پر اس وقت ہوتی ہے جب کہ اس کی اولاد ابھی دنیا میں زندہ رہتی ہے ۔ ماں کی وفات کا یہ پہلو اپنے اندر ایک اور اہم نصیحت رکھتا ہے ۔ وہ یہ کہ ماں دنیا سے رخصت ہو کر اپنے پس ماندگان کو بتاتی ہے کہ اسی طرح تمہیں بھی رخصت ہونا ہے ۔ ماں اپنی عمر پوری کر کے یہ پیغام دیتی ہے کہ اے زندہ رہنے والو ، یاد رکھو کہ تمہارا بھی کاؤنٹ ڈاؤن ہورہا ہے ۔ اس طرح تمہیں بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader