امید پر خاتمہ
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
رہا تھا۔ اس کے برعکس حال اس انسان کا ہوتا ہے جس نے سچائی کو دریافت کیا ہو۔ جو اس حقیقت کو جان چکا ہو کہ موت کے بعد وہ اگلے دورِ حیات میں داخل ہوگا جہاں خدا کی ابدی جنت ہے اور وہاں خدا کی رحمتیں سچے انسان کا انتظار کر رہی ہیں۔ ایسا آدمی زبانِ حال یا زبانِ قال سے کہے گاــــ جنت ایک اور دن قریب آگئی: One more day closer to Paradise. یہ حقیقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت بلال کی زندگی سے معلوم ہوتی ہے۔ بلال بن رباح الحبشی نے 63 سال کی عمر میں 642 عیسوی میں وفات پائی۔ روایات میں آیا ہے کہ آخر عمر میں بلال سخت بیمار ہوئے ۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر ان کی بیوی کی زبان سے نکلا: وا حزناه (ہائے غم) بلال نے سنا تو کہا: وا طرباہ! (ہائے خوشی) پھر انھوں نے کہاــــ کل میں اپنے ساتھیوں سے ملوں گا، محمد سے اور ان کے گروہ سے (غدا ألقى الأحبه محمدا وحزبه) ۔ الشفا للقاضي عياض، عمان، 1407ھ، 2/53 مذکورہ دونوں واقعات کے درمیان یہ فرق بتاتا ہے کہ حقیقت سے بے خبر انسان اور حقیقت سے باخبر انسان کا معاملہ کیا ہوتا ہے۔ جو آدمی اس حقیقت کو نہ جانتا ہو کہ بعد از موت بھی زندگی ہے جس کو اگلے دورِ حیات کی خبر نہ ہو، وہ چند دن کے لیے موجودہ دورِ حیات میں بظاہر خوش نظر آتا ہے لیکن جب وہ بوڑھا ہوتا ہے اور وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں پہنچتا ہے تو اس کا احساس یہ ہوتا ہے کہ آگے اس کے لیے تاریکی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ احساس اس کو مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کا خاتمہ اس طرح ہوتا ہے کہ اس کے پاس ناامیدی کے سوا کوئی اور سرمایہ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جس کو سچائی کی دریافت ہو گئی۔ جو خدا کی تخلیقی اسکیم (creation plan) کو جان چکا ہو، جس کو یہ معلوم ہو کہ قبل از موت دورِ حیات میں اُس کو خدا رُخی زندگی (God-oriented life) گزارنا ہے، تاکہ بعد از موت دورِ حیات میں وہ اس کے انعام کے طور پر خدا کی ابدی جنت میں جگہ پائے۔ ایسے آدمی کے لیے زندگی اُمید سے بھرا ہوا ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader