سفر حیات
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
تجربہ ہے۔ وہ امید کے ساتھ جیتا ہے اور امید کے ساتھ موت کا استقبال کرتا ہے۔ ایسے انسان کے لیے مایوسی کا کوئی سوال نہیں، نہ حال کی زندگی میں اور نہ مستقبل کی زندگی میں۔ موجودہ زمانے میں صنعتی انقلاب نے انسان کو ہر قسم کی آسائش کا سامان دے دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہر آدمی تناؤ (tension) اور اسٹریٹس (stress) میں جیتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جدید صنعتی انقلاب اس کو قبل از موت زندگی کے لیے تو بہت کچھ دے رہا ہے۔ لیکن یہ انقلاب نہ اس کو موت سے بچاتا ہے، اور نہ اس کو موت کے بعد کی زندگی کے لیے کوئی امید افزا پیغام دیتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو شعوری یا غیر شعوری طور پر انسان کو ذہنی تناؤ میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ آخری پیشی ایک شریر آدمی نے موقع پا کر ایک بزرگ کے مکان پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد اس نے مزید یہ کیا کہ بزرگ کے اوپر جھوٹے مقدمے قائم کر دیے تا کہ وہ دباؤ میں آکر اس کے ناجائز قبضہ کو مان لیں۔ عدالت کی پیشیاں ہونے لگیں، اور بزرگ کی توجہ اور پیسہ غیر ضروری طور پر اس میں ضائع ہونے لگے۔ تاہم بزرگ اس سے پریشان نہیں ہوئے۔ مذکورہ شخص سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا: ”یاد رکھو، آخری پیشی خدا کے یہاں ہونے والی ہے۔“ موجودہ دنیا میں انسان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی تدبیریں کر کے دوسرے کے مال پر قبضہ کرتا ہے، اور پھر قہقہہ لگاتا ہے۔ وہ فرضی کارروائیاں کر کے دوسرے کی جائیداد اپنے نام لکھوا لیتا ہے، اور پھر اپنے دوستوں میں اس کا تذکرہ اس طرح کرتا ہے، گویا اس نے کوئی بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ مگر اس قسم کی فتوحات اور کامیابیاں جھوٹی فتوحات اور کامیابیاں ہیں۔ وہ خدا کے یہاں پیشی کے وقت اتنی بے معنی ثابت ہوں گی کہ آدمی کے پاس الفاظ بھی نہ ہوں گے کہ وہ اپنی حمایت میں کچھ بول سکے۔ وہ وہاں خود ہی اپنے جرم کا اعتراف کرے گا، اگرچہ اس وقت اعتراف کرنا، اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader