موت سے بے خبری کیوں
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک قلعہ نما کوٹھی تھی۔ اس کی دیواروں اور چھت پر ہر طرف نہایت اعلیٰ پیمانے پر آرٹ ورک کیا گیا تھا۔ یہ کوٹھی بہت لمبی مدت تک بنتی رہی، یہاں تک کہ اُس کی آخری تکمیل سے پہلے 1946 میں راجا ہرکھ چند کا انتقال ہو گیا، اور وہ اس کوٹھی میں قیام نہ کر سکے۔ یہی معاملہ ہر انسان کا ہے۔ ہر آدمی اپنی زندگی کا منصوبہ اس طرح بناتا ہے، جیسے کہ اس کو ابدی طور پر اپنے اس منصوبے کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ جیسے کہ اس کے اور اُس کی بنائی ہوئی دنیا کے درمیان کبھی جدائی ہونے والی نہیں۔ یہ ایک سنگین سوال ہے کہ تمام انسان موت کے بارے میں کیوں اتنا زیادہ غافل رہتے ہیں۔ وہ دوسروں کو مرتا ہوا دیکھتے ہیں، لیکن خود اپنی موت کے بارے میں اُنھیں کبھی خیال نہیں آتا۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ جب کسی آدمی کی تدفین کے بعد قبرستان سے لوٹتے ہیں، تو اُس وقت خدا کا ایک فرشتہ قبر کے پاس آتا ہے۔ وہ قبر کی مٹی اٹھا کر لوٹنے والے لوگوں کی طرف پھینکتا ہے اور کہتا ہے کہ جاؤ غافل ہو جاؤ، جاؤ دوبارہ تم اپنی دنیا میں مشغول ہو جاؤ (لله تعالی ملك موكل بالمقابر فإذا دفن الميت و سوى عليه وتحولو الينصرفوا ؛ قبض قبضَة من تراب القبر فرمى بها أقفيَتهم وقال: انصرفوا إلى دنياكم وانسوا موتاكم الحَبائك فی أخبار الملائك للسيوطي، لبنان، 1985، 1/112۔ اس حدیث رسول میں تمثیل کی زبان میں ایک حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ یہ تمثیل کی زبان میں فرشتوں کی طرف سے گویا کہ ایک نگیر ہے۔ لوگ ایک انسان کو اپنے سامنے مرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ وہ اس کی تجہیز اور تکفین میں شریک ہوتے ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک انسان جو زمین میں چل پھر رہا تھا، وہ قبر میں دفن ہو گیا، لیکن اس واقعے سے وہ اپنے لیے کوئی سبق نہیں لینے۔ موت کے اس واقعے سے پہلے وہ جس طرح غفلت کی زندگی گزار رہے تھے، اُسی قسم کی غفلت کی زندگی وہ اب بھی گزارتے رہتے ہیں۔ یہی واقعہ پوری تاریخ میں پیش آرہا ہے۔ ساری انسانی تاریخ میں کچھ استثنائی افراد کو چھوڑ کر، کوئی انسان نظر نہیں آتا جو موت کے معاملے کو گہرائی کے ساتھ سمجھے اور اُس سے اپنے لیے سبق لے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader