Urdu book · سفر حیات

موت سے بے خبری کیوں

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

اس عمومی غفلت کا راز کیا ہے۔ یہ راز پروگرامنگ (programming) کے نظریے سے سمجھ میں آتا ہے۔ پروگرامنگ کا مطلب ہے کسی معاملے کی پیشگی طور پر طے شدہ ترتیب: A pre-arranged plan of procedure. سائنسی مطالعے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ انسان جو کچھ کرتا ہے، وہ خود اپنے ذہن کی پروگرامنگ کے تحت کرتا ہے۔ یہ پروگرامنگ فطری طور پر ہر انسان کے ذہن میں موجود ہوتی ہے۔ مثلاً بھوک لگنا، پیاس لگنا، نیند آنا، وغیرہ، سب اپنے ذہن کی فطری پروگرامنگ کے تحت پیش آتے ہیں۔ آدمی کی یہ صفت ہے کہ وہ ہمیشہ پرو پروگرامنگ (pro-programming) کے تحت سوچتا ہے، وہ اینٹی پروگرامنگ (anti-programming) کے تحت نہ سوچتا ہے اور نہ عمل کرتا ہے۔ اینٹی پروگرامنگ سوچ دراصل اینٹی سیلف سوچ کا نام ہے، اور اینٹی سیلف سوچ بلا شبہ تمام کم یاب چیزوں میں سب سے زیادہ کم یاب چیز ہے۔ یہ پروگرامنگ حالات کے زیر اثر جزئی طور پر بدل سکتی ہے، لیکن شعوری طور پر اپنی پروگرامنگ کے خلاف سوچنا، انتہائی حد تک ایک دشوار کام ہے۔ میرے ساتھ ایسا ہوا کہ ایک بار میں مانچسٹر (انگلینڈ) گیا۔ وہاں میں لمبی مدت تک مقیم رہا۔ مانچسٹر ایسے جغرافی علاقے میں ہے، جہاں کبھی رات لمبی ہوتی ہے اور دن چھوٹا، اور کبھی دن لمبا ہوتا ہے اور رات چھوٹی۔ میں جس زمانے میں وہاں گیا تھا، اس زمانے میں وہاں رات بہت چھوٹی ہوتی تھی اور اس کے مقابلے میں دن زیادہ لمبا۔ چناں چہ ایسا ہوتا تھا کہ ہم نے مغرب کی نماز ادا کی، اس کے جلد ہی بعد عشا کا وقت آگیا، اور پھر عشا کی نماز کے بعد جلد ہی فجر کا وقت آگیا۔ اس طرح رات کو وہاں سونے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ وہاں ہم رات کے وقت جاگتے تھے اور دن کے وقت سوتے تھے۔ چناں چہ مقامی حالات کے دباؤ کے تحت، مانچسٹر کے زمانے قیام میں سونے اور جاگنے کے بارے میں میرے ذہن کی پروگرامنگ وقتی طور پر بدل گئی۔ پھر جب میں انڈیا واپس آیا، تو اس بدلی ہوئی پروگرامنگ کی بنا پر مجھے یہاں رات کو نیند نہیں آتی تھی، بلکہ دن کو نیند آتی تھی۔ یہ صورت حال ایک عرصے تک باقی رہی۔ اس کے بعد میری پروگرامنگ اپنی سابقہ حالت پر لوٹ آئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page