Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

لندن میں چند روز

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں کے لوگ اب کی بات کرنے لگے ہیں ۔ وہ اب سوچ رہے ہیں کہ بے تعلیمی شاید زیادہ بہتر طور پر انسانی مسائل کو حل کرے گی “۔ مذکورہ مسلم نوجوان انگلستان کے ایک انگریزی پرچہ میں کام کرتے ہیں ۔ میرے دل میں آیا کہ میں ان سے کہوں کہ آپ جو اپنے وطن سے آکر یہاں رہ رہے ہیں تو کیا یہاں آپ اپنی بے علمی کی قیمت پا رہے ہیں ۔ اگر بے علمی مسئلہ کا حل ہو تو آدمی کو سب سے پہلے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو بے علم بنانا چاہئے ۔ مگر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے علم کو نمبر ایک اہمیت دے ہوئے ہیں اور ملت کے بچوں کو وہ بے علمی کا سبق دے رہا ہے۔ یہی غیر سنجیدگی ہے جس نے موجودہ زمانہ میں ہمارے تمام مسائل پیدا کئے ہیں ۔ مصر کے سابق صدر جمال عبد الناصر کے بارہ میں مشہور ہے کہ انہوں نے ایک تقریر میں اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ، نحن ابناء الفراعنه سنز ميكم فى البحد ( ہم فرعونوں کی اولاد ہیں ۔ ہم تم کو سمندر میں پھینک دیں گے ) لندن میں معلوم ہوا کہ یہ سراسر یہودیوں کی اختراع تھی ۔ انہوں نے خود سے اس کو وضع کرکے اس کو مشہور کر دیا تاکہ ان کے لئے زیادہ سے زیادہ اسلحہ جمع کرنے کا جواز فراہم ہو سکے ۔ انگلستان کے ایک مورخ ارسکن چائلڈرس (Erskine Childers) نے یہودیوں کی اکاذیب پر ایک کتاب لکھی ہے جس میں صدر ناصر کے مذکورہ فقرہ کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ارسکن چائلڈرس نے اپنی تحقیق ناصر کی زندگی میں شروع کی تھی ۔ اس نے جب اخبارات میں یہ رپورٹ پڑھی تو اس نے صدر ناصر کو خط لکھا کہ آپ نے یہ بات اپنی کس تقریر میں کہی ہے ، ناصر نے لکھا کہ مجھ کو یاد نہیں کہ میں نے کبھی یہ بات کہی ہو ۔ تاہم میں نے اپنے عملہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ میری تمام تقریروں کا جائزہ لے ۔ ناصر کی تمام تقریروں کا ٹیپ موجود تھا ، وہ سب کا سب دوبارہ سنا گیا ۔ معلوم ہوا کہ یہ سراسر گھڑی ہوئی بات ہے ۔ ورنہ ناصر نے کبھی ایسی بات نہیں کہی ، یہودیوں نے اپنے سیاسی مقصد کے تحت یہ جھوٹ گھڑا ۔ اور مسلمانوں کا حال چونکہ یہ ہے کہ اپنے مخالف کے بارہ میں ہر الٹی بات کو فوراً مان لیتے ہیں۔ چنانچہ جو صدر ناصر کے مخالف تھے وہ اس کو لے اڑے ۔ ارسکن چائلڈرس نے اپنی کتاب میں اس کی تفصیل بیان کی ہے ۔ راقم الحروف جمال عبد الناصر کا کسی درجہ میں بھی حامی نہیں ۔ مگر کسی آدمی کی طرف وہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page