لندن میں چند روز
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
بات منسوب کرنی چاہئے جو فی الواقع اس نے کی ہو یا کہی ہو۔ مثلاً جمال عبدالناصر نے ۱۹۵۵ میں نہر سوئز کو نیشنلائز کیا میں اس کو سراسر حماقت سمجھتا ہوں ۔ اپنی قیادت کو نمایاں کرنے کے سوا اس کا کوئی وجہ جواز نہیں۔ نہر سوئز ایک بین الاقوامی معاہدہ کے تحت برطانیہ اور فرانس کے زیر انتظام تھی۔ یہ معاہدہ صرف چند سال بعد ختم ہونے والا تھا۔ اگر ناصر صبر کرتے تو چند سال بعد وہ اپنے آپ ختم ہو جاتا، مگر ناصر نے اپنی قیادت کو نمایاں کرنے کے لئے غیر ضروری طور پر قبل از وقت اس کو نیشنلائز کیا اور اس کی قیمت مصر کو بہت بڑی تباہی کی صورت میں بھگتنی پڑی۔ ہانگ کانگ کو برطانیہ نے پٹے پر چین سے لیا تھا۔ اس کی مدت ۱۹۹۷ میں ختم ہونے والی ہے ۔ چینی بالکل خاموش بیٹھے ہوئے ہیں کہ جب یہ مدت ختم ہو تو معاہدہ کی تجدید نہ کر کے دوبارہ ہانگ کانگ پر اپنا قبضہ بحال کر لیں ۔ اسی طرح کیوبا میں ایک جزیرہ سابق معاہدہ کے تحت امریکی فوج کے قبضہ میں ہے ۔ اس کو بھی وہاں کا موجودہ حکمراں کیسٹرد برداشت کر رہا ہے ۔ حالانکہ وہ امریکہ کا سخت مخالف ہے ۔ وہ اس انتظار میں ہے کہ چند سال بعد جب معاہدہ کی مدت ختم ہو تو اس کی تجدید سے انکار کر دے اور اس طرح امریکی فوجوں کو واپس بھیج دے ۔ مگر جمال عبدالناصر نے انتہائی غیر مدبرانہ طور پر نہر سوئز کو قبل از وقت قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کیا اور اس کے نتیجہ میں مصر اور خود نہر سوئز دونوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ شاہ فاروق مصر کے آخری بادشاہ تھے۔ انہوں نے اپنے زوال کے وقت کہا تھا کہ دنیا میں بالآخر پانچ بادشاہ رہ جائیں گے۔ چار تاش کا اور ایک برطانیہ کا ۔ شاہ فاروق کی یہ بات لفظ بہ لفظ درست ثابت ہوئی ۔ آج فی الواقع یہی پانچ بادشاہ دنیا میں باقی رہ گئے ہیں ۔ چار تاش کے ، کیونکہ تاش کے بادشاہ کو اپنی بادشاہت باقی رکھنے کے لئے کسی ملک کی ضرورت نہیں ۔ وہ کاغذ کے ایک ٹکڑے پر بھی اپنی بادشاہت کو قائم رکھ سکتا ہے ۔ اور جہاں تک برطانیہ کے بادشاہ کا تعلق ہے ، اس کو برطانی قوم کی بڑھی ہوئی روایت پسندی نے قائم کر رکھا ہے ۔ اس وقت ملکہ الزبتھ برطانیہ کی تاجدار ہیں ۔ بادشاہ یا ملکہ کا لفظ بظاہر بڑا پرکشش معلوم ہوتا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بادشاہ یا ملکہ بننا اتنی زیادہ قیمت مانگتا ہے کہ اس کو جاننے کے بعد ایک حقیقت پسند آدمی کی نظر میں اس کی اہمیت بہت زیادہ گھٹ جاتی ہے۔ بادشاہ اپنے ملک کا سب سے بڑا قیدی ہوتا ہے ۔ لندن کے سفر کے زمانہ میں یہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader