لندن میں چند روز
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
جزیرے زیادہ تر غیر آباد تھے ۔ مگر ان پر قدرتی وسائل کافی مقدار میں موجود تھے ۔ برطانیہ نے انیسویں صدی کے آخر میں ان جزائر کے وسائل کو استعمال کرنے کے لئے باہر سے مزدور بھرتی کئے اور ان کو پانی کے جہازوں کے ذریعہ لا کر یہاں بسایا ۔ بار بیڈو زمیں زیادہ تر گنے کی کاشت کے لئے یہ مزدور لائے گئے ۔ کسی جزیرہ میں قیمتی لکڑی تھی اور وہ برطانیہ کو اپنے فرنیچر اور اپنے مکانوں کی تعمیر کے لئے مطلوب تھی ۔ وغیرہ ۔ ان مقاصد کے تحت ابتداً ان جزائر میں مزدور قسم کے لوگ لائے گئے ۔ تاہم اب ترقی کرتے کرتے ان جزائر کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے ۔ یہاں ہندوستان کے مقابلہ میں کمائی زیادہ کی جاسکتی ہے اور پر امن طور پر رہا جا سکتا ہے ۔ سابق مسلمانوں کے لڑکے اور پوتے اب تعلیم یافتہ ہو کر ایک ترقی یافتہ ملک کے شہری بن گئے ہیں ۔ بار بیڈ وز میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً پانچ سو ہے ۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ہندو صاحبان کی بڑی بڑی دکانیں اور اسٹور ہیں ۔ مسلمانوں کی زیادہ تعداد پھیری کرکے مال فروخت کرتی ہے ۔ ان کی یہ پھیری کاروں پر ہوتی ہے ۔ مقامی باشندے ان مسلمانوں کو قلی مان (قلی مین) کہتے ہیں ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو ہندوئوں سے شکایت ہے ۔ مگر بار بیڈ وز میں وہ اپنے سوا کس کو پائیں گے جس کی شکایت کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ اور تابعین اس طرح دنیا میں پھیلے کہ وہ ہر ملک میں اور ہر مقام پر نظر آنے لگے ۔ آج بھی یہ حال ہے کہ آپ جس ملک میں جائیں اور جس علاقہ کو دیکھیں وہاں آپ مسلمانوں کو پائیں گے ۔ تاہم ظاہری یکسانی کے باوجود دونوں واقعات میں زبردست فرق ہے ۔ صحابہ اور تابعین کو دعوت کے محرک نے پھیلایا تھا ، اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو معاش کے محرک نے ۔ صحابہ اور تابعین اس تڑپ کے تحت سارے عالم میں پھیل گئے کہ وہ دوسری قوموں کو حق کا پیغام پہنچائیں اور موجودہ مسلمان صرف اس لئے پھیلے ہیں کہ وہ دوسروں کے مادی دستر خوان میں سے اپنے لئے کچھ حصہ لے سکیں ۔ ہمارے اسلاف دینے کے لئے گئے تھے اور ہم لینے کے لئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ لوگ ہر جگہ مقامی آبادی کا مطلوب اور محبوب بنے اور ہم ہر جگہ صرف مبغوض بن رہے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader