لندن میں چند روز
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
باربیڈوز میں (اور اس طرح کے دوسرے مقامات پر) جو مسلمان ابتدا ر آئے تھے ، ان کی اکثریت قدیم اسلامی (بالفاظ دیگر مشرقی) انداز زندگی پر قائم ہے۔ مگر ان کی نئی نسل کا رنگ بالکل دوسرا ہے۔ یہ لوگ مغرب کے آزاد ماحول سے شدت کے ساتھ متاثر ہو رہے ہیں۔ وہ اپنی مادری زبان کم اور انگریزی زبان زیادہ سمجھتے ہیں۔ مغربی کلچر اور مغربی فکر ان کے اندر تیزی سے سرایت کر رہا ہے۔ ان کے بڑے ان سے کسی بات کے لئے کہتے ہیں تو وہ نہایت آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ میرے لئے نہیں (not me) یہ میرا کام نہیں ہے : It’s not may business نقشہ سامنے رکھئے ۔ ایک طرف یورپ اور افریقہ ہے اور دوسری طرف امریکی براعظم کے دونوں حصے ۔ درمیان میں اٹلانٹک سمندر ہے۔ اگر اٹلانٹک کی دونوں خشکی کو قریب لایا جائے تو دونوں اس طرح ایک دوسرے سے مل جائیں گے جیسے کہ وہ ایک ہی ٹکڑا تھا جس کو توڑ کر الگ کر دیا گیا ۔ جدید جغرافی تحقیق کے مطابق یہ محض قیاس نہیں ۔ بلکہ واقعہ ہے۔ ماضی میں فی الواقع یہ دونوں خشکی کے ٹکڑے آپس میں ملے ہوئے تھے ، پھر وہ ٹوٹ کر جدا ہو گئے۔ اس نظریہ کو جغرافی اصطلاح میں انتشار براعظم (Drifting Continent) کہا جاتا ہے ۔ باربیڈوز اسی علاقہ میں بحر اٹلانٹک کے انتہائی مغربی کنارے پر واقع ہے ۔ ہوائی جہاز کی انفلائٹ میگزین میں بحر اٹلانٹک اور اس کے دونوں طرف خشکی کا نقشہ دکھایا گیا تھا۔ اور اس کے نیچے لکھا ہوا تھا __ ہم آپ کو اٹلانٹک کے اس پار ایک عظیم ہوٹل میں اتار سکتے ہیں : We can land you in a great hotel across the Atlantic ۲۹ مارچ ۱۹۸۳ کو میرے ساتھ گو یا اسی قسم کا ایک واقعہ پیش آیا۔ میں ہندوستان سے چل کر باربیڈوز کے ہوٹل سام لا ڈکیسل (Sam Lord's Castle) میں پہنچا تو نہ صرف بحر اٹلانٹک بلکہ خشکی کا بھی بڑا حصہ طے کر چکا تھا ۔ چنانچہ ہندوستان میں میں مغرب کی سمت نماز ادا کرتا تھا۔ مگر باربیڈوز میں مجھے مشرق کی جانب نماز ادا کرنی پڑی۔ براعظم امریکہ کے دونوں خشکی کے ٹکڑوں کے درمیان میں تقریباً بیس جزیرے ہلال کی صورت میں ہیں جن کو سمندر کا ہار کہا جاتا ہے۔ انہیں میں سے ایک جزیرہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader