لندن میں چند روز
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
اور چوڑائی ۴ میل ہے ۔ مجموعی رقبہ ۱۶۶ میل ہے۔ اس کی صورت تقریباً سری لنکا جیسی ہے۔ یہاں آپ انٹرنیشنل ڈرائیور لائسنس پر گاڑی چلا سکتے ہیں۔ ایسے آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ جب وہ ہوائی اڈہ پر اترے تو وہاں پندرہ ڈالر (باربیڈین) دے کر اپنا نام رجسٹر کرالے۔ باربیڈوز میں قتل اور اس طرح کے دوسرے جرائم نہیں ہوتے۔ اس لئے یہاں وردی پوش پولیس بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ یہاں کی کل آبادی ۲۵۰۰۰ ہے۔ باربیڈوز کے لوگوں کا نظریہ بس کھانا کمانا اور خوش رہنا ہے۔ یہاں ہر قسم کے کھیلوں کا انتظام ہے۔ سب سے پہلے سولہویں صدی میں جنوبی امریکہ کے لوگ یہاں آکر آباد ہوئے۔ اس کے بعد یہ جزیرہ برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا۔ ۱۹۶۶ میں باربیڈوز نے برطانیہ سے سیاسی آزادی حاصل کی۔ اب وہ کامن ویلتھ کا ممبر ہے۔ باربیڈوز لندن سے ۴۵۰ ، ۴ میل دور واقع ہے۔ مگر وہ برطانی کلچر سے اتنا زیادہ متاثر ہے کہ اس کو چھوٹا انگلینڈ (Little England) کہا جاتا ہے ۔ آب وہوا بہت اچھی ہے ۔ آبادی تقریباً سب کی سب عیسائی ہے ۔ خاص پیدا وار شکر ہے ۔ اس کے بعد آمدنی کے ذرائع مچھلی اور سیاحت اور جہاز رانی ہیں ۔ رسمی طور پر یہاں کی حکمران ملکہ برطانیہ ہے ۔ انگریزی زبان باربیڈوز کی سرکاری زبان ہے ۔ باربیڈوز سیاحوں کا جزیرہ ہے۔ یہاں تفریح مذہب ہے۔ باربیڈوز کی تعارفی کتاب میں ہم کو یہ جملہ لکھا ہوا ملا کہ کرکٹ ہمارا دوسرا مذہب ہے : Our second religion is Cricket باربیڈوز کے اخبارات میں سیاحوں کے تاثرات چھپتے رہتے ہیں۔ ہم نے اخبار وزیٹر (۲۸ مارچ ۱۹۸۳) میں کناڈا کے باب ینگ (Bob Young) کے تاثرات پڑھے ۔ وہ بارہ سال سے ہر سال اپنی چھٹیاں گزارنے باربیڈوز آتے ہیں۔ انہوں نے باربیڈوز کے سکون اور خوبصورتی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ باربیڈوز میں ہمیشہ رہوں : I just want to stay in Barbados forever آدمی ابدی جنت چاہتا ہے مگر اس کو موجودہ زندگی میں صرف وقتی جنت مل گئی ہے۔ مہندوستان سے نکل کر بحر ہند سمندر میں پہنچنا گویا کاره ارض کا تقریباً نصف حصہ طے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader