لندن میں چند روز
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
باربیڈوز (Barbados) ہے۔ اس جزیرہ کا دارالسلطنت برج ٹاؤن (Bridgetown) ہے۔ اسی مقام پر دوسری کریمین اسلامک کانفرنس ہوئی جو ۳۱ مارچ سے لیکر ۴ اپریل ۱۹۸۳ تک جاری رہی۔ باربیڈوز کا نام اس جزیرہ کو پرتگیزیوں نے دیا۔ پرتگیزی سب سے پہلے ۱۵۳۶ء میں اس جزیرہ سے گزرے۔ اس وقت یہ جزیرہ بالکل غیر آباد تھا۔ یہاں کے ساحلوں پر اس وقت خاص طرح کے درختوں کی کثرت تھی جن میں ریشے لٹکتے ہیں۔ اس کو دیکھ کر پرتگیزیوں نے کہا (Los Barbados) یہ اسپینی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی ہوتے ہیں۔ "داڑھی والا" یہ کہہ کر پرتگیزی آگے بڑھ گئے۔ اس کے بعد ۱۶۲۵ء میں انگریز یہاں آتے تو انہوں نے اسی نام کے ساتھ اس کو آباد کیا۔ باربیڈوز کے خوبصورت ہوٹلوں میں سب سے زیادہ عام منظر یورپ اور امریکہ کے سفید فام سیاح ہیں جو نیم برہنہ لیٹے، بیٹھے یا گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان مردوں اور عورتوں کا کام صرف دو ہے ــــ شراب پینا اور باہم عیش کرنا۔ ان میں سے کچھ افراد سے ہماری باتیں ہوئیں ۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ کیا واقعی انہیں زندگی کی لذت حاصل ہے۔ ان کی گفتگو اور ان کے مشاہدے سے میں نے یہی سمجھا کہ وہ صرف لذت کی تلاش میں ہیں۔ عملاً انہیں ان کی مطلوبہ لذت حاصل نہیں۔ مغرب کے لوگ شادی کرتے ہیں۔ جب اس سے انہیں مطلوبہ لذت نہیں ملتی تو طلاق دے کر دوسری شادی کر لیتے ہیں۔ اس سے بھی مقصد حاصل نہیں ہوتا تو آزاد معاشرہ (Permissive Society) کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اس سے بھی تسکین نہیں ہوتی تو ننگے پن کی طرف دوڑتے ہیں ۔ وہ انہیں چیزوں میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں ۔ یہاں تک کہ مایوسی کے عالم میں مرجاتے ہیں ۔ ان کا یہ ناکام خاتمہ صرف اس نادانی کی قیمت ہے کہ انہوں نے موجودہ دنیا میں وہ چیز حاصل کرنی چاہی جو موجودہ دنیا میں ملنے والی نہیں۔ باربیڈوز کی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے اس کو مختلف نام دیئے گئے ہیں ۔ مثلاً : Tropical Paradise — Happiness Island — Jewel of the Caribbean جزیرہ باربیڈوز اٹلانٹک کے ہار کا ایک موتی کہا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی صرف ۲۱ میل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader