Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

لندن میں چند روز

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

دکانوں سے مختلف مال (مثلاً کپڑا وغیرہ) خریدتے ہیں اور اس کو کار پر رکھ کر بستیوں میں جاتے ہیں اور ادھار فروخت کرتے ہیں۔ ان کا کاروبار زیادہ تر ان لوگوں کے درمیان ہوتا ہے جو نقد ادائگی کی طاقت نہیں رکھتے۔ اور سامان خرید کر قسطوں میں اس کی ادائگی کرتے ہیں۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر یہ مسلمان تاجر دوگنی قیمت پر ان کے ہاتھ مال بیچتے ہیں اور عام دکانداروں سے زیادہ نفع کماتے ہیں۔ یہاں کی زبان میں ان کو ”قلی مان“ کہا جاتا ہے۔ یعنی ”قلی مین“۔ باربیڈوز کے لوگ اب اس حقیقت کو جاننے لگے ہیں۔ ۵ اپریل ۱۹۸۳ء کو اسی قسم کے ایک مسلمان مجھے اپنی تجارتی گاڑی پر لے کر جا رہے تھے۔ ہم لوگ یہاں کا ایک تاریخی مقام دیکھنے جا رہے تھے۔ راستہ میں باربیڈوز کے کچھ عیسائی نوجوان ملے جو مذکورہ ”قلی مان“ کے گاہک تھے ۔ ایک نوجوان نے ان کو دیکھا تو ہنس کر کہا۔ تم غریب کو دھوکہ دے کر لوٹنے جا رہے ہو : You are going to cheat the poor اس نوجوان نے یہ بات اگرچہ مذاق کے طور پر کہی۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ یہاں کی نئی نسل میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ ہندوستانی لوگ ان کو لوٹتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہاں کے ہندوستانی مسلمانوں کے لئے عقل مندی یہ ہے کہ وہ اپنے کو حالات کے مطابق بنالیں قبل اس کے کہ مذاق حقیقت کی صورت اختیار کرلے۔ ”قلی مان“ لوگوں کا کام چونکہ کار کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اس لئے تھوڑے دنوں میں وہ ایک شاندار“ کار خرید لیتے ہیں۔ اب مقامی لوگ جب ان کو شاندار کاروں میں سفر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ باہر سے آنے والوں کے پاس شاندار کاریں ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں۔ کار کو چلتی پھرتی دکان کی صورت دینا بہت عمدہ ہے مگر موجودہ حالت میں وہ غیر ضروری طور پر مسلمانوں کی خوشحالی کا چلتا پھرتا اعلان بن گیا ہے اور مقامی باشندوں میں ان کے خلاف حسد اور رقابت کے جذبات کو بڑھا رہا ہے ۔ ۸ اپریل ۱۹۸۳ء کو میں نے باربیڈوز سے نیویارک کے لئے سفر کیا۔ بی ڈبلیو آئی اے (B WA) کی فلائٹ سے پانچ گھنٹہ کی پرواز تھی۔ باربیڈوز سے نیویارک کا سفر پورا کا پورا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page