لندن میں چند روز
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
اٹلانٹک کے اوپر ہوا۔ پانچ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد ہم جان کینیدی ایئر پورٹ پر اترے۔ یہ امریکی ایئر پورٹ کافی بڑا ہے مگر وہ جدہ کے بین الاقوامی ایئر پورٹ سے کم شاندار نظر آیا۔ مجھے بعض ضرورتوں کے تحت جلد دلی پہنچنا تھا۔ اس لئے اصرار کے باوجود میں باربیڈوز میں کم ٹھہرا اور وہاں سے ٹرینیڈاڈ بھی نہ جاسکا۔ چنانچہ میں نیویارک میں بھی زیادہ قیام نہ کر سکتا تھا۔ صرف ایک دن وہاں گزارے۔ خوش قسمتی سے مجھے ایک امریکن مل گیا۔ یہ سیکیورٹی گارڈ کا ایک افسر تھا اور بہت شریف اور معقول آدمی تھا۔ اس سے میں نے اپنا تعارف کرایا۔ اپنی بعض انگریزی چیزیں اس کو دیکھنے کے لئے دیں۔ اور پھر اس سے کہا کہ نیویارک میں میرے لئے زیادہ قیام کا وقت نہیں ہے۔ البتہ میں نیویارک کو ایک نظر دیکھنا چاہتا ہوں۔ وہ بخوشی راضی ہو گیا۔ اس نے مجھ کو اپنی گاڑی پر بیٹھا یا اور نیویارک کی سڑکوں پر گھماتا رہا۔ اس طرح چند گھنٹوں کے اندر میں نے نیویارک شہر پر ایک طائرانہ نظر ڈال لی۔ مگر یہاں بھی وہی بات پیش آئی جو میں نے کینیدی ایئر پورٹ کے بارے میں لکھی ہے۔ نیویارک کی ظاہری عظمتوں میں مجھے ایک قسم کی پستی لپٹی ہوئی نظر آئی۔ یہاں کی اونچی اونچی عمارتیں مجھے عمودی سلم (Vertical Slum) کے روپ میں دکھائی دیں۔ اس کی مادی رونقوں میں روحانی تاریکی کا احساس ہوا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں مادی ترقی کے قبرستان میں پہنچ گیا ہوں نہ کہ کسی قسم کی مادی ترقیات کی جنت میں۔ آخر میں جب مذکورہ امریکی نے مجھے ہوائی اڈہ پر لا کر چھوڑا تو میں نے اس کا نام و پتہ پوچھا۔ اس نے اپنا نام لوئی (Mr. Louis) بتایا۔ مگر پتہ بتانے سے یہ کہہ کر معذرت کردی—’’ ہم سیکیورٹی کے لوگ ہیں، ہم کو اپنا پتہ بتانے کی اجازت نہیں‘‘ میرا یہ سفر دہلی سے شروع ہوا۔ اور لندن ، باربیڈوز اور نیویارک ہوتا ہوا دوبارہ دہلی پر ختم ہوا۔ اس پورے سفر کی مسافت تقریباً ۲۴ ہزار میل تھی، یعنی تقریباً اتنی ہی جتنی زمینی گولائی کی کل مسافت ہے۔ مختصر مدت میں یہ طویل سفر طے کر کے میں ۲۰ اپریل ۱۹۸۳ء کو ایر انڈیا کی فلائٹ نمبر ۱۱۰ سے دہلی ایئر پورٹ پر اترا تو میرے ذہن میں ایک عجیب خیال آیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ قیامت قریب آگئی ہے اور خدا نے مادہ (matter) کو حکم دے دیا ہے کہ وہ زندگی کے سفر کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader