لندن میں چند روز
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سفر ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۳ء کی شام کو ۹ بجے میں دہلی ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں تھا۔ مجھ کو جاپان ایئر لائننز سے روم ہوتے ہوئے افریقہ جانا تھا۔ اس اثنا میں بغل کی سیٹ سے دو خوش پوش مسافروں کی گفتگو کے یہ الفاظ میرے کان میں آئے : آپ کہاں جا رہے ہیں روم آپ کہاں جا رہے ہیں لندن میں نے سوچا کہ انسان کس قدر بے خبر ہے۔ اس کی جیب میں چونکہ ہوائی جہاز کا ٹکٹ ہے ، اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ وہ روم اور لندن جا رہا ہے۔ وہ بھول گیا ہے کہ اس کے اوپر خدا کے طاقتور فرشتے مقرر ہیں۔ جو اس انتظار میں ہیں کہ کب خدا کا حکم ہو اور وہ آدمی کو اپنی پکڑ میں لے کر اس کو خدا کی عدالت میں پہنچا دیں۔ آدمی بالا آخر خدا کی دنیا میں جانے والا ہے۔ مگر وہ سمجھتا ہے کہ وہ خود اپنی دنیا میں جا رہا ہے۔ انسان کی یہ بے خبری بھی کیسی عجیب ہے۔ جاپان ایئر لائننز کی فلائٹ نمبر ۴۶ سے میں نے روم تک کا سفر کیا۔ میں اکثر معروف کمپنیو کے جہازوں میں سفر کر چکا ہوں۔ مگر جاپان ایئر لائننز مجھے سب سے بہتر معلوم ہوئی۔ اس جہاز کی ہر چیز دوسرے جہازوں سے بہتر تھی۔ جہاز کی بناوٹ، عملہ کی کارکردگی، مسافروں کی ضروریات کا اہتمام وغیرہ ہر چیز میں جاپان ایئر لائنز دوسری کمپنیوں سے ممتاز نظر آئی۔ روم سے طرابلس کا سفر الپتالیا کے ذریعہ طے ہوا۔ جہاز کی تقریباً نصف سیٹیں خالی نظر آئیں۔ اس کی وجہ غالبأ یہ ہوگی کہ لیبیا میں بیرونی دنیا کے لئے تجارتی مواقع زیادہ نہیں ۔ سیاحت کی کشش بھی لیبیا میں زیادہ نہیں ہے۔ اور آجکل ہوائی سفر زیادہ تر یا تجارت کے لئے ہوتا ہے یا سیاحت کے لئے۔ تاہم پٹرول ڈالر کی طاقت کا اندازہ اس سے ہوا کہ الپتالیا (Alitalia) میں دورانِ پرواز جب دن کا کھانا آیا تو اس کے ساتھ ٹرے میں ایک کار ڈبھی تھا جس میں عربی اور دوسری تین زبانوں میں یہ فقرہ لکھا ہوا تھا :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader