لندن میں چند روز
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ تمام کردے تا کہ خدا اپنی آخری عدالت قائم کرے جہاں خدا کے گواہ لوگوں کے بارہ میں اپنی گواہیاں پیش کریں اور ہر ایک کے لئے اس کے عمل کے مطابق ابدی جنت یا ابدی جہنم کا فیصلہ کر دیا جائے۔ آج زمین پر بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں مگر وہی کام نہیں ہو رہا ہے جو سارے تخلیقی منصوبه کا اصل مطلوب ہے۔ یعنی حمد خداوندی ۔ موجودہ انسانی دنیا اپنے وجود کا جواز کھو چکی ہے۔ اب آخری طور پر وہ لمحہ آچکا ہے جب کہ موجودہ امتحانی دنیا کو ختم کر دیا جائے اور وہ معیاری دنیا شروع ہو جہاں خدا کے سوا کسی اور کی حمد نہ کی جاسکے۔ جو حقیقی بھی ہو اور اسی کے ساتھ ابدی بھی۔ اس کے باوجود موجودہ دنیا کیوں ختم نہیں کی جارہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کو ایک آخری عمل کا انتظار ہے جو ابھی تک اُن ہو پڑا ہے۔ یہ عمل ہے آج کے انسانوں کے اوپر اتمام حجت ۔ جب تک یہ نہ ہو کہ دعوت حق اٹھائی جائے اور اس کو ابلاغِ تام کی حد تک پہنچا دیا جائے۔ اس وقت تک موجودہ دنیا کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اس عمل کی تکمیل تک قیامت معلق پڑی رہے گی۔ خدا کو آج سب سے زیادہ اعلان حق کا انتظار ہے۔ مگر دین کے نام پر بے شمار سرگرمیوں کے باوجود یہی وہ کام ہے جس کا کرنے والا کوئی نہیں۔ ہر آدمی خود ساختہ دین کی تبلیغ میں مصروف ہے نہ کہ حقیقتہ خدا کے دین کی تبلیغ میں۔ مسلمانوں میں اسلام کی دھوم تو درکنار ہندوستان کے ہندوؤں یا افریقہ کے مشترک قبیلوں میں دین کا پیغام پہنچانے سے بھی اتمام حجت کی وہ شرط پوری نہیں ہوتی جو آج خدا کو مطلوب ہے ۔ آج خدا کو عالمی اتمام حجت کا انتظار ہے اور عالمی اتمام حجت صرف اس وقت متحقق ہو گا جب کہ وہ ان قوموں پر انجام دیا گیا ہو جن کو آج کی دنیا میں لیڈر شپ کا مقام حاصل ہے۔ یعنی مغربی قومیں، خاص طور پر امریکہ۔ جن قوموں کو آج عالمی لیڈر شپ کی حیثیت حاصل ہے ان پر اتمام حجت ہی سے عالمی اتمام حجت کی شرط پوری ہوگی اور اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ خدا اسرافیل کو حکم دے کہ اب صور پھونک دو تاکہ تخلیقی منصوبہ کے آخری مرحلہ کی تکمیل کی جاسکے۔ مسلمانانِ عالم کو آج یہی کام انجام دینا ہے۔ اسی پر ان کی قسمت کا آخری فیصلہ معلق ہے ، دنیا کی قسمت کا بھی اور آخرت کی قسمت کا بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader